یادگیری، 27 اگست (ایس او نیوز): کرناٹک کے یادگیری ضلع میں آر ایس ایس کے پَتھ سنچلن میں شرکت کرنے کے الزام میں دو سرکاری اسکول اساتذہ کو محکمہ تعلیم نے معطل کردیا ہے۔ یہ کارروائی واقعہ کے تقریباً نو ماہ بعد کی گئی ہے۔
معطل کیے گئے اساتذہ میں ہناسگی کے سرکاری گرلز ہائی اسکول کے استاد گوروراج جوشی اور ہناسگی تعلقہ کے کُپّی گاؤں کے سرکاری لوئر پرائمری اسکول کے ہیڈ ٹیچر انّا صاحب دیشمکھ شامل ہیں۔ یادیگیری کے ڈپٹی ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن (DDPI) چنّابساپا مدھول نے دونوں کے معطلی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آر ایس ایس کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر گزشتہ سال نومبر میں وجئے پور ضلع کے تالی کوٹے شہر میں ایک بڑا پَتھ سنچلن منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس وقت سرکاری ملازمت میں موجود مذکورہ دونوں اساتذہ نے اس مارچ میں شرکت کی تھی۔
ان کی شرکت کے خلاف امبیڈکر سوابھیمانی سینا کے عہدیداروں نے محکمہ تعلیم اور عوامی نمائندوں سے شکایت کی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ سرکاری ملازمین ہونے کے باوجود دونوں اساتذہ نے ایک سیاسی یا تنظیمی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ لے کر سرکاری ملازمین کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے کی شکایت اُس وقت کے دیہی ترقی اور پنچایت راج کے وزیر پریانک کھرگے تک بھی پہنچائی گئی تھی۔ کھرگے نے اس معاملے پر کارروائی کے لیے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کو خط لکھا تھا۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم نے داخلی تحقیقات کیں اور الزامات ثابت ہونے کے بعد دونوں اساتذہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ کارروائی کرناٹک میں سرکاری ملازمین کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں میں شرکت کے معاملے پر جاری بحث کے درمیان سامنے آئی ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ سول سروسز (کنڈکٹ) رولز، 2021 کے قاعدہ 5(1) کے تحت سرکاری ملازمین کو کسی سیاسی جماعت یا ایسی تنظیم سے وابستہ ہونے یا سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے جو سیاست میں حصہ لیتی ہو۔ اسی ضابطے کے تحت حکومت کسی سرگرمی یا تنظیم کے سیاسی نوعیت رکھنے کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال کرناٹک میں آر ایس ایس کے پروگراموں میں سرکاری ملازمین کی شرکت کا معاملہ پہلے بھی سامنے آچکا ہے۔ اکتوبر 2025 میں بیدر ضلع کے اوراد میں آر ایس ایس مارچ میں شرکت کرنے والے اساتذہ اور عملے کو محکمہ تعلیم کی جانب سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔