کولکاتا، 20 اگست (ایس او نیوز): ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران دستاویزات کی جانچ اور انتخابی فہرست میں نام کی تصدیق کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک حالیہ معاملے نے واضح کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام سے متعلق تنازع بعض حالات میں دیگر اہم سرکاری دستاویزات کے حصول میں بھی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک MBBS طالب علم کی درخواست پر متعلقہ SIR اپیلیٹ ٹریبونل کو ہدایت دی ہے کہ اس کی والدہ کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کے خلاف زیرِ التوا اپیل کا دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ طالب علم نے بنگلہ دیش کے ایک میڈیکل کالج میں MBBS میں داخلہ لیا ہے اور عدالت کو بتایا گیا کہ والدہ کا نام انتخابی فہرست سے حذف ہونے کے باعث اسے پاسپورٹ کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں والدہ کا نام فوری طور پر ووٹر لسٹ میں بحال کرنے یا طالب علم کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ زیرِ التوا اپیل کو مقررہ مدت میں نمٹانے کی ہدایت دی۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انتخابی فہرست میں نام، شہریت اور دیگر سرکاری ریکارڈ سے متعلق دستاویزات بعض معاملات میں ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں اور کسی ایک ریکارڈ میں پیدا ہونے والی پیچیدگی کا اثر دیگر سرکاری امور پر بھی پڑسکتا ہے۔
خصوصاً ان خاندانوں کے لیے یہ معاملہ قابلِ توجہ ہے جن کے نام SIR کے دوران کسی وجہ سے فہرست میں شامل نہیں ہوسکے، حذف ہوگئے یا جن کے ریکارڈ پر اعتراض درج ہوا ہے۔ ایسے افراد کو آخری تاریخ کا انتظار کرنے یا معاملے کو معمولی سمجھنے کے بجائے مقررہ طریقۂ کار کے تحت اپنے دعوے، اعتراضات اور ضروری دستاویزات پیش کرکے ریکارڈ درست کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی واضح رہے کہ SIR میں کسی کا نام حذف ہونا بذاتِ خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ متعلقہ شخص پاسپورٹ حاصل نہیں کرسکتا۔ تاہم، مذکورہ عدالتی معاملہ اس بات کی مثال ضرور ہے کہ انتخابی ریکارڈ سے متعلق تنازع بعض حالات میں پاسپورٹ سمیت دیگر سرکاری معاملات میں دستاویزی دشواری پیدا کرسکتا ہے۔
اس لیے SIR کے عمل میں جن افراد کے نام، خاندانی تفصیلات یا سابقہ انتخابی ریکارڈ کے حوالے سے کوئی مسئلہ سامنے آیا ہے، انہیں اسے نظرانداز کرنے کے بجائے مقررہ مدت کے اندر متعلقہ حکام کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرکے ضروری کارروائی مکمل کرلینی چاہیے۔ وقت پر تصدیق اور اعتراضات کا ازالہ مستقبل میں غیر ضروری قانونی اور دستاویزی پریشانی سے بچنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔