بنگلورو، 27/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک حکومت نے ریاست کے تعلیمی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات تجویز کرنے اور طلبہ کو درپیش مختلف مسائل کا جائزہ لینے کے لیے 5 رکنی اعلیٰ سطحی کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو ریاست کے موجودہ تعلیمی نظام کا تفصیلی جائزہ لے کر اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کمیٹی کی صدارت وزیر صحت، اقلیتی بہبود اور حج و اوقاف یو ٹی قادر کریں گے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں وزیر اعلیٰ تعلیم بسواراج رایا ریڈی، وزیر داخلہ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی و حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور برقی حکمرانی پریانک کھرگے، وزیر طبی تعلیم و ہنرمندی کی ترقی ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل اور وزیر اسکولی تعلیم مدھو بنگارپا شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے کمیٹی کو تعلیمی شعبے سے متعلق 6 اہم امور کا جامع جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان میں امتحانات اور بھرتیوں میں شفافیت و دیانت داری، تعلیم کے اخراجات، فیس اور کوچنگ کے ضابطے، سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور معیار، نصاب و ہنرمندی کی تربیت اور روزگار سے تعلیمی اداروں کا ربط، طلبہ کی ذہنی صحت و بہبود، اور تعلیم تک رسائی و مساوی مواقع شامل ہیں۔
کمیٹی کو ماہرین سے مشاورت کرنے کے علاوہ ریاست بھر میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال اور مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے تعلیمی شعبے میں موجود عملی مسائل اور طلبہ کو درپیش مشکلات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کی جائیں گی۔
حکومت نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو کمیٹی کے لیے رابطہ کار محکمہ مقرر کیا ہے۔ کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ ایک ماہ کے اندر حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت کے اس اقدام کو ریاست کے تعلیمی نظام میں موجود مختلف مسائل کا جامع جائزہ لینے اور طلبہ کے مفادات کو مرکز میں رکھتے ہوئے اصلاحات کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔