ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آر ایس ایس کی رجسٹریشن، اثاثوں اور مالی شفافیت پر پریانک کھرگے کے سوالات

آر ایس ایس کی رجسٹریشن، اثاثوں اور مالی شفافیت پر پریانک کھرگے کے سوالات

Wed, 26 Aug 2026 12:18:34    S O News

بنگلورو، 26/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن، اثاثوں، مالی ذرائع اور جواب دہی سے متعلق اپنے سوالات ایک بار پھر اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایسی تنظیم کے بارے میں سوال کیا جائے جس کی باضابطہ قانونی حیثیت موجود نہ ہو تو ’’نہیں‘‘ جواب ملنا فطری ہے۔

سماجی رابطے کے ایکس پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں پرینک کھرگے نے کہا کہ اگر کسی تنظیم کی باضابطہ رجسٹریشن نہیں ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور اس کے نام پر جواب دہی کے معاملے میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے اور اس کے ارکان کو باقاعدہ رکنیت کارڈ بھی جاری نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سنگھ سے وابستہ کسی فرد پر کسی جرم کا الزام ہو تو مقدمہ فرد کے خلاف درج کیا جاتا ہے، تنظیم کے خلاف نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے خود کو باضابطہ طور پر رجسٹر کرانے، قانونی دائرۂ کار میں آنے اور اپنے مالی معاملات کو شفاف بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پریانک کھرگے نے بنگلورو کے کیشو کرپا اور نئی دہلی کے کیشو کنج کی ملکیت اور رجسٹریشن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی تنظیم کا معاشرے پر وسیع اثر و رسوخ ہے تو اس کے اثاثوں، مالی ذرائع اور ذمہ داریوں کے بارے میں وضاحت ہونی چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ معاشرے پر وسیع اثر و رسوخ رکھتا ہے تو وہ خود کو باضابطہ طور پر رجسٹر کرانے سے کیوں گریز کرتا ہے؟ قانونی، مالی اور ٹیکس سے متعلق جواب دہی کے دائرے میں آنے سے ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ اور اس کے مالی وسائل اور عطیات کے ذرائع کے بارے میں مکمل شفافیت کیوں نہیں ہونی چاہیے؟۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا اس سے وابستہ تنظیموں سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کا سوال الگ ہے۔ ان کے مطابق، آئندہ اس حوالے سے سوال یہ ہونا چاہیے کہ سنگھ یا اس سے وابستہ تنظیموں سے منسلک کتنے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست کی تیاری میں وقت لگے گا، تاہم وہ اسے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی رجسٹریشن اور مالی شفافیت کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے کرناٹک میں سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پریانک کھرگے پہلے بھی سنگھ سے اس کی قانونی حیثیت، تنظیمی ڈھانچے، عہدیداروں، عطیات و آمدنی کے ذرائع، اخراجات، اثاثوں اور ٹیکس سے متعلق تفصیلات واضح کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

دوسری جانب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے رجسٹریشن کے مطالبے کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنگھ ایک رضاکار تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے اور اسے باضابطہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔

پریانک کھرگے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان یہ معاملہ حالیہ ہفتوں میں مزید سیاسی بحث کا باعث بنا ہے، جبکہ کرناٹک حکومت نے سرکاری عمارتوں اور عوامی املاک کے استعمال سے متعلق ایک نیا قانونی فریم ورک بھی منظور کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سرکاری زمین، عمارتوں، پارکوں، سڑکوں اور دیگر عوامی اثاثوں کے استعمال کو ضابطے میں لانا ہے۔


Share: