بنگلورو ، 26/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ وہ اس وقت حکومت کے سربراہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اقتدار ہے، لیکن وہ اندرونی ریزرویشن، ریزرویشن نظام اور سماجی انصاف کے حامی ہیں اور اس معاملے پر نہ ماضی میں سمجھوتہ کیا ہے اور نہ مستقبل میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اور معاشی عدم مساوات کے خاتمے اور محروم طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنے تک ریزرویشن کی ضرورت برقرار رہے گی۔
بنگلورو میں اندرونی ریزرویشن تحریک کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اندرونی ریزرویشن سے متعلق مذاکرے کا افتتاح کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ذات پات کے نظام کے نتیجے میں جن طبقات کو مواقع سے محروم رکھا گیا، انہیں ریزرویشن ملنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محروم طبقات میں صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے مواقع نہیں ملے اور ریزرویشن انہیں یہی مواقع فراہم کرتا ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ جب تک معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی مواقع حاصل نہیں ہوتے، عدم مساوات ختم نہیں ہوسکتی۔ بابا صاحب امبیڈکر نے بھی سماجی، معاشی اور سیاسی مساوات کو ضروری قرار دیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صدیوں سے جاری اصلاحی تحریکوں کے باوجود ملک میں ذات پات کا نظام اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی مساوات کے باوجود سماجی اور معاشی مساوات قائم نہیں ہوئی تو عدم مساوات برقرار رہے گی۔ اس لیے ایک مساوی معاشرے کی تشکیل کے لیے محروم طبقات کو سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی طاقت فراہم کرنا ضروری ہے۔
سدارامیا نے بسونا کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 850 سال قبل بسونا نے انسانوں کے درمیان ذات پات کی تفریق ختم کرکے سب کو اپنا سمجھنے کا پیغام دیا تھا، لیکن افسوس ہے کہ آج بھی معاشرہ اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔
انہوں نے اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالب علمی کے زمانے میں تعطیلات کے دوران اپنے گاؤں جاتے تھے، جہاں انہیں مویشیوں کے لیے کنویں سے پانی نکالنے کا کام دیا جاتا تھا۔ کنویں میں موجود کچرا صاف کرنے کے باوجود کچھ دیر بعد وہ دوبارہ جمع ہوجاتا تھا۔ سدارامیا نے کہا کہ اسی طرح مختلف اصلاحات کے باوجود ذات پات کا نظام آج بھی مضبوطی سے قائم ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ اندرونی ریزرویشن کے لیے گزشتہ تین دہائیوں سے جدوجہد جاری ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس معاملے میں نئی پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اندرونی ریزرویشن کے نفاذ کے لیے ناگ موہن داس کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے عوام سے بات چیت کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر پہلے 5 گروپ تشکیل دے کر اندرونی ریزرویشن کی تقسیم کی گئی، بعد میں اسے 3 گروپوں میں تقسیم کرتے ہوئے 6:6:5 کا فارمولہ اختیار کیا گیا۔ تاہم بعض طبقات کو ایک ساتھ شامل کرنے پر اعتراضات سامنے آئے اور اس کے خلاف عدالت میں درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔ بعد ازاں 15 فیصد ریزرویشن کی عارضی تقسیم پر بھی غور کیا گیا اور کابینہ میں 5.5، 5.5 اور 4 فیصد کی تقسیم کی تجویز پر اتفاق ہوا، تاہم معاملے میں اب بھی کچھ پیچیدگیاں موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت اندرونی ریزرویشن نافذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے وہ اس معاملے پر بات کریں گے اور اندرونی ریزرویشن سے متعلق تمام الجھنوں کو دور کرکے اسے نافذ کرنے کی درخواست کریں گے۔ حتمی فیصلہ ریاستی کابینہ کرے گی، تاہم انہیں یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ ان کی بات سنیں گے۔
سدارامیا نے محروم طبقات کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حق میں کھڑے ہونے والوں اور ریزرویشن کی مخالفت کرنے والوں کی شناخت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے درمیان کسی بھی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اپنے مفادات کے لیے ریزرویشن مخالف قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تحریک کے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور اپنے مقصد کے حصول تک متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھیں۔
سدارامیا نے کہا کہ ملک میں عدم مساوات کے خاتمے تک ریزرویشن جاری رہنا چاہیے اور ہر شہری کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے اس پیغام کا حوالہ دیا کہ سماجی انصاف کے رتھ کو آگے بڑھایا جائے، اسے پیچھے نہ دھکیلا جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کے دوران سماجی انصاف کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں ان کی حکومت نے آبادی کے تناسب سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے خصوصی منصوبہ بندی اور قبائلی ذیلی منصوبے سے متعلق قانون نافذ کیا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے ان طبقات کی فلاحی اسکیموں کے لیے تقریباً 8,000 کروڑ روپے مختص کیے جاتے تھے، جبکہ قانون کے نفاذ کے بعد یہ رقم 15,000 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی۔
سدارامیا نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے 44,636 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے متعلق قانون کی دفعہ 7ڈی ختم کرنے اور کرناٹک اسٹیٹ فنانشل کارپوریشن کے ذریعے 4 فیصد سود پر 10 کروڑ روپے تک قرض کی سہولت فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں ترقیوں میں ریزرویشن کے نفاذ کے لیے بھی ان کی حکومت نے اقدامات کیے اور رتنا پربھا کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر اس کی سفارشات کو قانونی شکل دی گئی۔ عدالت میں اس قانون کو چیلنج کیا گیا، تاہم فیصلہ حکومت کے حق میں آیا۔
سدارامیا نے کہا کہ وہ ہمیشہ محروم طبقات کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کے باوجود وہ فعال سیاست میں رہیں گے۔
انہوں نے اندرونی ریزرویشن کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھیں اور اس وقت تک کوشش جاری رکھیں جب تک مقررہ مقصد حاصل نہ ہوجائے۔
سدارامیا نے یقین دلایا کہ وہ اندرونی ریزرویشن کے معاملے میں وزیر اعلیٰ اور متعلقہ وزراء سے بات کریں گے اور محروم طبقات کے جائز مطالبات کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔