ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / نیپال میں اچانک سیلاب کی تباہی، 384 مسافر لاپتہ، 16 ہلاکتیں؛ 105 ہندوستانی بھی شامل

نیپال میں اچانک سیلاب کی تباہی، 384 مسافر لاپتہ، 16 ہلاکتیں؛ 105 ہندوستانی بھی شامل

Wed, 26 Aug 2026 17:03:08    S O News

کٹھمنڈو ، 26/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) نیپال میں تبت کی سرحد سے متصل علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ’نیپال ٹورزم بورڈ‘ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق آج بدھ کی صبح راسوا کی بھوٹے کوشی ندی میں اچانک آنے والے سیلاب کے بعد 384 مسافر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد 400 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس سیلاب میں تقریباً 300 غیر ملکی لاپتہ ہوئے ہیں، جن میں 105 ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اچانک آئے اس سیلاب کے باعث اب تک 16 افراد کی موت کی خبر سامنے آچکی ہے۔

’کٹھمنڈو  پوسٹ‘ نے نیپالی آرمی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کی دوپہر تک 25 لوگوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ نیپالی فوج، آرمڈ پولیس فورس (اے پی ایف) اور پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ 14 ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو مہم میں شامل کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ شمالی راسوا میں ایک بارڈر آؤٹ پوسٹ پر تعینات اے پی ایف کے 4 جوان اچانک آئے سیلاب کی وجہ سے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اے پی ایف کے ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل نیتر بہادر کارکی نے کہا کہ نیپال-چین کے سرحدی علاقے میں سیلاب آنے کے بعد سے ہی یہ ان چاروں جوانوں سے رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بارڈر پوسٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور افسران کو یہ بھی پتہ لگانا ہے کہ کیا لاپتہ جوان سیلاب سے متاثر ہوئے تھے یا نہیں۔

اس کے علاوہ مقامی میڈیا میں آئی غیر مصدقہ خبروں کے مطابق راسوا کسٹمس آفس کے 14 ملازمین سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ’کانتی پور‘ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق نیپال پولیس کے ایک ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ 32 جوان بھی رابطے سے باہر ہیں۔ ’دی ہمالین ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے سیلاب کی وجہ سے نوواکوٹ میں تریشولی بازار کے پاس تقریباً 60 گھر بہہ گئے اور 2 پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے راسوا، نوواکوٹ، دھاڈنگ، گورکھا اور چتون سمیت متاثرہ علاقوں کے وفاقی اراکین پارلیمنٹ سے بات کی ہے۔ بات چیت بنیادی طور پر سیلاب سے ہوئے نقصان ساحلی بستیوں کی صورتحال اور ریسکیو آپریشن پر مرکوز تھیں۔

دوسری جانب نیپال میں سیلاب کے باعث مچی تباہی کے بعد بہار میں خاص احتیاط برتی جا رہی ہے۔ چیف سکریٹری پرتیے امرت کی صدارت میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں سیلاب کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ اضلاع کو چوکس رہنے اور ضروری بچاؤ و راحت کی تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایات دی گئیں۔ گنڈک ندی سے منسلک اضلاع میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کے امکان کے پیش نظر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ بیتیا، موتیہاری، گوپال گنج، سارن، مظفر پور اور ویشالی میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیتامڑھی، شیوہر اور دیگر حساس اضلاع میں بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔


Share: