میسورو ، 26/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) میسور ومیں مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے پُنیت کیرے ہلی اور ہندوتوا تنظیموں کے متعدد کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ احتجاجی کارکنوں نے ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے جمع ہوکر نعرے لگائے اور ضلع انتظامیہ و پولیس سے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پُنیت کیرے ہلی نے کہا کہ وہ پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے آئے ہیں، تاہم ضلع ڈپٹی کمشنر اور شہر کے پولیس کمشنر کو احتجاجی مقام پر پہنچ کر میسورو میں جاری مذبح خانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے بارے میں واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص نے فون کرکے گؤکشی کے معاملے پر بات کی اور انہیں چیلنج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عہدیدار احتجاجیوں کا مطالباتی مکتوب قبول کرکے واضح جواب نہیں دیتے، وہ میسورو سے واپس نہیں جائیں گے۔
اس دوران احتجاجی کارکنوں نے اجتماعی طور پر نعرے لگائے اور کہا کہ وہ ہندوتوا کے لیے کسی بھی قربانی سے نہیں گھبرائیں گے۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس نے پُنیت کیرے ہلی کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔ ان کے حامیوں نے انہیں گھیر لیا اور پولیس کو فوری طور پر حراست میں لینے سے روکنے کی کوشش کی۔
کچھ احتجاجیوں نے موقع پر ہی بیٹھ کر اور لیٹ کر احتجاج کیا۔ اس دوران وندے ماترم اور پولیس کارروائی کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ پولیس نے احتجاجیوں کو ایک ایک کرکے وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، جس کے دوران بعض مقامات پر دھکم پیل کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
پُنیت کیرے ہلی نے الزام عائد کیا کہ ضلع ڈپٹی کمشنر اور پولیس کمشنر کو یادداشت پیش کرنے اور بات چیت کرنے کے لیے آنے والے افراد کو بات سنے بغیر ہی حراست میں لے لیا گیا، جبکہ فون کرکے چیلنج کرنے والے شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بڑی تعداد میں کارکنوں کے ساتھ میسور آنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پولیس نے بنگلورو اور ریاست کے مختلف اضلاع سے میسورو پہنچنے والے بعض ہندوتوا کارکنوں کو شہر میں داخل ہونے والی سڑکوں پر ہی روک کر حراست میں لیا۔ پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے احتجاجی مقام اور شہر کے اہم مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات کیے۔