بنگلورو، 26/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں خصوصی جامع نظرثانی کے تحت 24 اگست کو جاری کیے گئے ووٹر فہرست کے مسودے کو مختلف شہری و سماجی تنظیموں نے مسترد کرتے ہوئے مرکزی الیکشن کمیشن کے خلاف فردِ جرم جاری کی ہے۔ بنگلورو کے پریس کلب میں خصوصی جامع نظرثانی مخالف اتحاد کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں تنظیموں کے نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ نظرثانی کے عمل میں لاکھوں حقیقی ووٹروں کے نام حذف ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس موقع پر ’یدیلو کرناٹک‘ کے کے۔ ایل۔ اشوک نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ریاست بھر میں عوامی تنظیمیں متحد ہوکر خصوصی جامع نظرثانی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کررہی ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کی مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی اس مہم میں تعاون کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسودہ فہرست کے اجرا کے بعد لاکھوں شہریوں کو اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ فارم پُر کرنا پڑھے لکھے افراد کے لیے بھی مشکل رہا، جس سے عام اور کم تعلیم یافتہ شہریوں کے لیے پیدا ہونے والی دشواری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
معروف اداکار پرکاش راج نے انتخابی کمیشن کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ کسی ایک فرد یا کسی ایک سیاسی جماعت کے ووٹروں کا نہیں بلکہ ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی جماعت کے حامی ووٹر کا نام غلط طریقے سے حذف کیا جاتا ہے تو یہ ناقابل قبول ہے۔
پرکاش راج نے کہا کہ انتخابی کمیشن کو گھر گھر جاکر نئے اہل ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے، انتقال کرچکے افراد کے نام حذف کرنے اور غلطیوں کی اصلاح کا کام مقررہ طریقہ کار کے مطابق انجام دینا چاہیے۔ ان کے مطابق جو افراد گھر پر موجود نہیں تھے، ضروری نہیں کہ وہ ریاست یا ملک سے باہر گئے ہوں؛ وہ ملازمت یا دیگر وجوہات سے عارضی طور پر باہر بھی ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کرناٹک میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں تو خصوصی جامع نظرثانی کے عمل میں اتنی عجلت کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں شہریوں کو دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
پرکاش راج نے مزید کہا کہ جمہوریت میں ووٹر ہی سب سے اہم ہے اور کسی شہری کو اس کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں میں انتخابی عمل سے مایوسی پیدا ہونا جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یکم ستمبر کو بنگلورو کے فریڈم پارک سے متاثرہ ووٹروں کے ساتھ ’الیکشن کمیشن چلو‘ پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں سے بھی اس جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ شہری تنظیمیں قانونی راستہ بھی اختیار کریں گی۔
جن شکتی کے ریاستی صدر نور شری دھر نے کہا کہ کرناٹک کی عوامی اور سیکولر تنظیمیں گزشتہ ایک سال سے خصوصی جامع نظرثانی کے معاملے پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہل شہری کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے اور 24 اگست کو جاری کیے گئے مسودہ ووٹر فہرست کو شہری سماج کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 43 لاکھ افراد کو نوٹس جاری کیے جانے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام افراد عام شہری اور ووٹر ہیں، اس لیے انہیں محض انتخابی فہرست میں پیدا ہونے والی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر مشکوک سمجھنا مناسب نہیں۔
نور شری دھر نے خصوصی جامع نظرثانی کے عمل میں طریقہ کار، اعداد و شمار اور تربیت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی بوتھ سطح کے افسران کو مناسب تربیت نہیں دی گئی اور گھر تبدیل کرنے والے افراد کے نام حذف کیے جانے سے حقیقی ووٹر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
شہری تنظیموں نے مرکزی الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے مرکزی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی الیکشن کمشنروں کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار میں غیر جانب داری کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے ایسا طریقہ کار بحال کیا جائے جس میں حکمراں جماعت، اپوزیشن اور عدلیہ کی مناسب نمائندگی ہو تاکہ انتخابی ادارے کی خودمختاری اور غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
شہری تنظیموں کا خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر اعتراض: شہری تنظیموں نے مشترکہ طور پر کہا کہ وہ انتخابی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ خصوصی جامع نظرثانی کے عمل، اس کے اعداد و شمار اور ان کی تشریح کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے مطابق موجودہ عمل میں خامیاں ہیں اور اس کے نتیجے میں اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
تنظیموں نے کہا کہ یکم ستمبر کو الیکشن کمیشن چلو کے دوران متاثرہ ووٹروں کی شہادتیں اور دستاویزات انتخابی کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں گی تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ نظرثانی کے عمل میں کن عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ خصوصی جامع نظرثانی کے موجودہ عمل کو روکنے کے مطالبے کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔