بارہ بنکی، 6/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کچھ خود ساختہ گئو رکشکوں نے نوجوان کو بچھڑے کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا، اس کے ساتھ بدزبانی کی اور مبینہ طور پر جسمانی دھمکیاں بھی دیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کے مطابق، مذکورہ افراد نے نوجوان پر گائے کے بارے میں قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام لگایا۔ بعد ازاں اسے روک کر نہ صرف اس سے سخت لہجے میں بات کی گئی بلکہ اس کے والد کو بھی فون کر کے مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی گئی۔
واقعے کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا۔ ویڈیو شیئر کرنے والے صارفین کا دعویٰ ہے کہ نوجوان نے موقع پر معذرت بھی کی، لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ بدزبانی کی گئی، مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور اسے بچھڑے کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد صارفین نے اسے ایک شخص کی تذلیل اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے شہری کو سزا دے، دھمکائے یا عوامی طور پر رسوا کرے۔
یہ دعویٰ کہ نوجوان کو بچھڑے کے سامنے جھکایا گیا، مسلم برادری میں بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ مقامی مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سجدہ صرف اللہ کیلئے مخصوص ہے، اس لیے اگر یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایک فرد کی تذلیل بلکہ اس کے مذہبی عقیدے میں مداخلت بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔ معاملے سے واقف ایک مقامی شخص نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور تمام تنازعات کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔
واقعے کے بعد مسلم تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کی شناخت کی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے بارہ بنکی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ پولیس نے آن لائن جاری بحث کا نوٹس لینے کی تصدیق کی ہے، تاہم جب اس معاملے پر براہِ راست رابطہ کیا گیا تو بارہ بنکی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے دفتر کے ایک نمائندے نے بتایا کہ محکمہ کو تاحال اس واقعے سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ویڈیو کی صداقت یا اس کے پس منظر کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
اس واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن سید ناصر حسین نے معاملے کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت سے کہا کہ اگر کوئی شخص قانون شکنی کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسے واقعات انسانی وقار اور آئینی حقوق کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق، اگر کسی شہری پر کوئی الزام ہو تو اس کا فیصلہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں کر سکتی ہیں، نہ کہ خود ساختہ گروہ۔
قانونی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنا صرف پولیس اور مجاز سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ نجی افراد یا تنظیموں کو کسی بھی شہری کو سزا دینے یا اس کی تذلیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے زور دیا ہے کہ کسی بھی الزام کا فیصلہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے اور ہر شہری کو وقار، قانونی تحفظ اور منصفانہ سماعت کا بنیادی حق حاصل ہے۔ ادھر ویڈیو مسلسل سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس کے باعث پولیس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس کی حقیقت جانچنے، ملوث افراد کی شناخت کرنے اور یہ واضح کرے کہ آیا اس واقعے میں کوئی قابلِ تعزیر جرم سرزد ہوا ہے یا نہیں۔