نئی دہلی، 6/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی طرف سے ہندوستان کی حمایت کا دعویٰ کیے جانے کے بعد کانگریس نے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس حوالے سے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس جو اسرائیل پر سوال اٹھا رہے ہیں، نے ابھی کہا ہے کہ امریکہ کے علاوہ اسرائیل کا اب کوئی طاقتور اتحادی باقی نہیں بچا ہے۔ اب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر غلط ہیں اور اسرائیل کو ہندوستان میں زبردست حمایت حاصل ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں نیتن یاہو کے مذکورہ دعوے کو غلط ٹھہرایا۔ ساتھ ہی کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ’مودانی سامراجیہ‘ میں گہرائی تک سرایت ہو چکا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی اس کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ لیکن کروڑوں ہندوستانی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں، جس میں بچوں تک کو نہیں بخشا گیا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل اور بے گھر کیے جانے کی مذمت کرتے ہیں۔ ایران پر کیے گئے فضائے حملوں کی مذمت کرتے ہیں، جن میں ’ٹارگٹڈ کلنگ‘ بھی شامل ہیں اور جنوبی لبنان میں چلائی گئی اس کی وحشیانہ فوجی مہم کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ یہ سب انسانیت پر براہ راست حملے ہیں۔‘‘
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’’خود ساختہ، ایوارڈز کے بھوکے ’وشوگرو‘ کی اسرائیل کی ان کارروائیوں پر پتھر جیسی خاموشی ہندوستان کی تہذیبی وراثت اور اقدار کے ساتھ غداری ہے۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘‘ ان کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو سے تمغہ ملنا کوئی اعزاز کی بات نہیں ہے، خاص طور پر تب جب وہ خود بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ پڑ چکے ہیں اور وزیر اعظم مودی کے وائٹ ہاؤس والے اچھے دوست تک کے دل میں بھی ان کے تئیں مایوسی اور غصہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’’اسرائیل کو صرف امریکہ کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان جیسے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک چھوٹا ملک نہیں بلکہ 1.4 ارب آبادی والا ملک ہے اور وہاں سے انہیں زبردست حمایت ملتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا، خاص طور سے ’فیس بک‘ پر انہیں ہندوستان سے بڑی تعداد میں حمایتی پیغام موصول ہوتے ہیں۔