بنگلورو 2/جولائی (ایس او نیوز) : کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں واقع ایک آئی ٹی کمپنی کیپ جیمینی (Capgemini) کے کیمپس میں قائم ڈے کیئر سینٹر میں دو سے تین سال عمر کے کمسن بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک کیے جانے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔
اطلاع کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ڈے کیئر کی آیاوں (کیئر گیورز) کو بچوں کو سزا دینے کے لیے فرنٹ لوڈنگ واشنگ مشین کے ڈرم کے اندر بٹھاتے، انہیں باتھ روم میں بند کرتے اور رونے پر ٹوائلٹ کے جیٹ اسپرے سے ان کے منہ میں پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ ڈے کیئر سینٹر بنگلورو کے بروک فیلڈ علاقے میں کیپ جیمینی کے کیمپس میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کے لیے چلایا جا رہا تھا۔ بچوں کے والدین کو اس وقت واقعہ کا علم ہوا جب مبینہ تشدد کی ویڈیوز سامنے آئیں، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس سے شکایت درج کرائی۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ڈے کیئر کی پانچ خواتین آیاوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کو صرف رونے یا ضد کرنے پر سخت جسمانی اور ذہنی اذیت دی جاتی تھی۔ پولیس وائرل ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور والدین و دیگر متعلقہ افراد کے بیانات کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
میڈیا میں آئی رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں تقریباً دو سے تین سال کے درمیان ہیں۔ والدین نے الزام لگایا ہے کہ بچوں کے رویّے میں اچانک خوف، بے چینی اور ڈے کیئر جانے سے انکار جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد انہیں شک ہوا، جس کے بعد معاملہ بے نقاب ہوا۔
واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد کیپ جیمینی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈے کیئر سینٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تشدد کے لیے اس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور اندرونی سطح پر بھی الگ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ادھر کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی اور ذمہ دار افراد کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکے۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد کرناٹک بھر میں ڈے کیئر مراکز کی نگرانی، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، عملے کی جانچ اور بچوں کے تحفظ کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی والدین اور عوام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔