ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شرجیل امام کی دہلی عدالت سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کی اجازت کی درخواست

شرجیل امام کی دہلی عدالت سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کی اجازت کی درخواست

Mon, 06 Jul 2026 19:01:11    S O News

نئی دہلی ، 6/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)مسلم طلبہ لیڈر اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت زیرِ سماعت قیدی شرجیل امام نے دہلی کی ایک عدالت سے اپنے تحقیقی مواد اور کمپیوٹر تک رسائی کی اجازت طلب کی ہے تاکہ وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں زیرِ تکمیل اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر سکیں۔ اپنے وکیل کے ذریعے دائر درخواست میں شرجیل امام نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں ایک پین ڈرائیو میں محفوظ تحقیقی مواد جیل کے اندر وصول کرنے کی اجازت دی جائے، جسے ان کے وکلا جیل حکام کے ذریعے فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نگرانی میں جیل کے کمپیوٹر استعمال کرنے کی بھی اجازت مانگی ہے تاکہ وہ اپنے تحقیقی کام کو مکمل کر سکیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس تحقیقی مواد تک رسائی مانگی جا رہی ہے، اس پر حکومتِ ہند کی جانب سے کسی قسم کی پابندی یا قانونی قدغن عائد نہیں ہے، اس لیے اسے استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ عدالتی درخواست کے مطابق رواں سال اپریل میں عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اسی نوعیت کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ نے شرجیل امام کو اپنے وکیل سے پین ڈرائیو حاصل کرنے کی اجازت بھی دے دی تھی، تاہم تحقیقی مواد فراہم کیے جانے سے قبل ان کا تبادلہ ہو گیا۔ بعد ازاں تعینات ہونے والے نئے سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے واضح حکم کے بغیر شرجیل امام کو نہ تو تحقیقی مواد فراہم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمپیوٹر تک رسائی دی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ شرجیل امام کو جنوری ۲۰۲۰ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جدید تاریخ (Modern History) کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے اور اپنی پی ایچ ڈی پر کام کر رہے تھے۔ یہ درخواست شاہدرہ کی کڑکڑڈوما عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی کے روبرو پیش کی گئی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی ٹرائل کورٹ نے حال ہی میں شرجیل امام اور عمر خالد کی نئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ شرجیل امام گزشتہ ساڑھے چھ برس سے عدالتی حراست میں ہیں۔ اگرچہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) مخالف احتجاج کے دوران کی گئی تقاریر سے متعلق بعض دیگر مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے، تاہم ۲۰۲۰ء دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں یو اے پی اے کی دفعات کے تحت عائد الزامات کے باعث وہ اب بھی جیل میں ہیں۔


Share: