بھٹکل 5 / جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل کے ایک ہوٹل میں نابالغ لڑکی کی آبرو ریزی کرنے کے الزام میں منکی پولیس اسٹیشن سے وابستہ سب انسپکٹر کو بھٹکل ٹاون پولیس نے پوکسو ایکٹ اور دیگر قوانین کی دفعات کے تحت گرفتار کر لیا ہے ۔
پولیس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق منکی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر ابھینندن گوڑا نے بھٹکل کے 'رویل اوک' ہوٹل میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف زبردستی جنسی عمل کیا تھا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نابالغ لڑکی نے 4 جولائی کو بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن میں جو شکایت درج کروائی ہے اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم پی ایس آئی ابھینندن گوڑا نے لڑکی نابالغ ہونے کا علم رہنے کے باوجود ٹیلی فون کالس، چیاٹس کے علاوہ پیسوں کا لالچ دیتے ہوئے لڑکی کو اعتماد میں لیا اور 31 مئی کو ہوناور کے اپسر گونڈا میں اپنے ایک رشتے دار کے ہاں بچی کے جنم دن کی تقریب میں شرکت کے لئے اپنے ساتھ ہوناور لے گیا ۔ پھر اس کے بعد وہاں سے شام تقریباً 6.30 بجے لڑکی کو بھٹکل کے 'رویل اوک' کے کمرے میں لے جا کر اس کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے اس کی عصمت دری کی ۔
جس دن یہ واقعہ ہوا ہے، اس دن بھٹکل میں 'مورین کٹے' کا واقعہ پیش آیا تھا اور اسی تناظر میں پولیس افسران کے لئے 'رویل اوک' ہوٹل میں قیام کی سہولت فراہم کی گئی تھی ۔ اسی دوران یہ واقعہ ہونے کا شبہ ہونے پر تحقیقات کی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر بھٹکل ٹاون پولیس ملزم پی ایس آئی ابھینندن گوڑا کو تحویل میں لیا اور پھر پوچھ تاچھ کے بعد اسے گرفتار کر لیا ۔
ملزم ابھینندن گوڑا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ رام نگر ضلع کے کنکا پور کا رہنے والا ہے اور 2021 کے بیاچ میں پی ایس آئی بنا ہے ۔ ابھی چند مہینے قبل ہی اس کی تعیناتی منکی پولیس اسٹیشن میں پی ایس آئی (لاء اینڈ آرڈر) کی حیثیت سے ہوئی تھی ۔
قانون اور امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری سنبھالنے والے پولیس افسر کی طرف سے اس طرح حرکت سامنے آنا ایک طرف بذات خود محکمہ پولیس کے لئے باعث شرم ہے تو دوسری طرف عوام کے اندرمحکمہ پولیس کے تعلق سے پائے جانے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس نے اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے اور محکمہ جاتی سطح پر اس کی تحقیقات ہونے کے امکانات ہیں ۔
بھٹکل ٹاون اسٹیشن کی پولیس ٹیم تمام زاویوں سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے ۔