بھٹکل، 5 نومبر (ایس او نیوز): تعلقہ کے غوثیہ اسٹریٹ میں واقع یو جی ڈی (زیرزمین نکاسی آب) پمپنگ اسٹیشن سے گٹر کا گندہ پانی سرابی ندی میں شامل ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے خلاف ندی کے اطراف آباد غوثیہ اسٹریٹ، مشما اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ اور ڈارنٹا سمیت متاثرہ علاقوں کے مکینوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کبھی صاف ستھری رہنے والی سرابی ندی اب گٹر کے گندے پانی کے اخراج سے آلودہ ہوچکی ہے، جبکہ اطراف کے علاقوں میں بدبو، مچھروں کی افزائش اور کنوؤں کے پانی کی آلودگی نے عوام کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ گندگی کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے عوام اب اس مسئلے کے خلاف احتجاج کی تیاری کررہے ہیں۔
اس معاملے میں مقامی لوگ میونسپل حکام کے ساتھ قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم سے بھی جواب طلب کررہے ہیں۔ بعض مکینوں کا الزام ہے کہ غوثیہ اسٹریٹ میں پمپنگ اسٹیشن قائم کرنے کے وقت متعلقہ عوام کو اس کے ممکنہ نقصانات کے تعلق سے مطمئن کرنے کے بجائے ایسی یقین دہانیاں کرائی گئیں جن پر بعد میں عمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں علاقے کی قدرتی آبی گزرگاہ متاثر ہوئی ہے، جس کی قیمت اب مقامی آبادی کو ادا کرنی پڑرہی ہے۔
اس سلسلے میں متاثرہ علاقوں کے لوگ جب بھٹکل میونسپل دفتر پہنچے اور اسسٹنٹ انجینئر اروند کے سامنے اپنی شکایات رکھیں تو انہوں نے بتایا کہ پمپنگ اسٹیشن کرناٹکا اربن واٹر سپلائی اینڈ ڈرینیج بورڈ (KUWSDB) کی جانب سے تعمیر کیا گیا تھا، البتہ اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھٹکل میونسپلٹی کو سونپی گئی ہے۔ اروند کے مطابق پمپنگ اسٹیشن کی دونوں موٹریں معمول کے مطابق کام کررہی ہیں اور گندے پانی کو پمپ کرکے تقریباً چار کلومیٹر دور بلند علاقے میں واقع وینکٹاپور ندی میں چھوڑا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اگر سرابی ندی میں گندہ پانی داخل ہورہا ہے تو اس کی وجہ ویٹ ویل (Wet Well) میں جمع ہونے والا اضافی پانی ہوسکتا ہے، جسے موجودہ نظام کی گنجائش سے زیادہ ہونے کے باعث پمپ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اروند کے مطابق تقریباً 20 سال قبل تیار کیے گئے پمپنگ اسٹیشن اور ویٹ ویل کو اس وقت کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن اب وہاں پہنچنے والے نکاسی آب کے پانی کی مقدار بہت بڑھ چکی ہے اور موجودہ مشینری پوری مقدار کو پمپ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میونسپلٹی اپنی ذمہ داری کے تحت موٹروں اور اسٹیشن کی دیکھ بھال کررہی ہے، لیکن پانی کی غیر معمولی آمد کو کنٹرول کرنا اس کے موجودہ مینٹیننس کے دائرے میں نہیں آتا۔ مسئلے کے مستقل حل کے تعلق سے پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ پورے نظام کی ازسرنو انجینئرنگ (Re-engineering) ضروری ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق شہر کے مجموعی زیرزمین نکاسی آب کے نظام میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔ مختلف علاقوں میں 15 سے 20 سال پرانے مین ہول اور پائپ لائنیں اندرونی طور پر خستہ حال ہوچکی ہیں، جن میں دراڑیں اور دیگر خرابیاں پیدا ہونے سے گٹر کا پانی زمین میں رس رہا ہے اور اطراف کے کنوؤں کے آلودہ ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کئی مقامات پر گھروں کے بیت الخلا اور غسل خانوں کے پانی کے ساتھ صحنوں میں جمع ہونے والا بارش کا پانی بھی یو جی ڈی نظام میں شامل ہوجاتا ہے، جس سے بارش کے موسم میں نکاسی آب کے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بعض علاقوں میں گٹر کا پانی گھروں کے صحنوں تک پہنچنے لگتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گلمی، بندر روڈ اور دیگر علاقوں کے یو جی ڈی کنکشن بھی اسی ویٹ ویل سے جوڑے گئے ہیں، جبکہ اسارکیری میں بھی کئی کنوؤں کے آلودہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے مین ہول اور پائپ لائنوں کی مرمت اور تبدیلی کے بجائے نئے یو جی ڈی کاموں پر توجہ دی جارہی ہے، جس کے باعث موجودہ نظام کی بنیادی خامیاں برقرار ہیں۔
سرابی ندی کو آلودگی سے بچانے کے لیے جدید ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تجویز:
اس مسئلے کے مستقل حل کے طور پر دبئی کی ایک انجینئرنگ کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز بھٹکل کے انجینئر جیلانی محتشم نے جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے بھٹکل کے حالیہ دورے کے دوران غوثیہ اسٹریٹ پمپنگ اسٹیشن کے علاوہ شہر میں انجام دیے گئے یو جی ڈی کاموں اور نکاسی آب کے نظام کا بھی معائنہ کیا تھا۔

جیلانی محتشم کے مطابق سرابی ندی میں گندے پانی کا اخراج روکنے کے لیے صرف موٹروں اور پائپ لائنوں کی مرمت کافی نہیں، بلکہ گندے پانی کو مکمل طور پر صاف کرنے کا جدید نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ جاپان سمیت کئی ممالک میں استعمال ہونے والی ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گندے پانی کو مختلف مراحل سے گزار کر اس میں موجود ٹھوس فضلہ، مٹی، نامیاتی آلودگی اور جراثیم کو الگ کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل کے بعد حاصل ہونے والا صاف پانی درختوں، پارکوں اور باغات کی آبپاشی سمیت دیگر غیر پینے والے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تاہم جیلانی محتشم کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے بیشتر شہروں میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی مناسب دیکھ بھال اور مینٹیننس ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے میں ان کے نزدیک ایک متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ ٹریٹمنٹ کے بعد حاصل ہونے والے پانی کو الگ پائپ لائن کے ذریعے وینکٹاپور ندی تک پہنچایا جائے، جہاں اسے مطلوبہ معیار اور ماحولیاتی ضوابط کے مطابق خارج کیا جاسکے۔
جیلانی محتشم نے بتایا کہ وہ دبئی میں اس نوعیت کے کئی منصوبوں پر کام کرچکے ہیں۔ ان کے ابتدائی اندازے کے مطابق بھٹکل میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم حتمی لاگت کا انحصار روزانہ صاف کیے جانے والے پانی کی مقدار، پلانٹ کی گنجائش اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پلانٹ کی تعمیر کے بعد مشینری کی بروقت مرمت، بجلی کی فراہمی، تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی اور پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہوگی۔