ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / باگل کوٹ میں ’’ویراٹ ہندو سمیلن‘‘، حساس علاقوں میں سیکیورٹی سخت، انتظامیہ الرٹ

باگل کوٹ میں ’’ویراٹ ہندو سمیلن‘‘، حساس علاقوں میں سیکیورٹی سخت، انتظامیہ الرٹ

Sun, 01 Mar 2026 11:01:17    S O News

باگل کوٹ، یکم مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک  کے تاریخی شہر باگل کوٹ ایک بار پھر ریاست بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 19 فروری کو شیواجی جینتی کے جلوس کے دوران پیش آئے ناخوشگوار واقعات کے بعد شہر میں کشیدہ فضا قائم ہے۔ امتناعی احکامات نافذ ہونے کے باوجود سیاسی و سماجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایسے نازک حالات میں یکم مارچ (اتوار) کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں ’’ویراٹ ہندو سمیلن‘‘ کا انعقاد طے پایا ہے، جسے انتظامیہ اور پولیس کے لیے کڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

19 فروری کے واقعے کے بعد باگل کوٹ میں حالات کافی حد تک بگڑ گئے تھے۔ پولیس نے امن و امان بحال رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے اور کچھ افراد کو حراست میں لیا۔ حالیہ دنوں میں بعض کارکنان کی گرفتاری کے دوران ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، جس پر مقامی سیاسی حلقوں نے پولیس کی کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا، جبکہ محکمہ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری اور امن کا قیام اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ایسے ماحول میں بڑے اجتماع کی اجازت ملنے پر مختلف سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سمیلن کا جلوس دوپہر ساڑھے تین بجے وینکٹاپیٹ کے شری وینکٹیشور مندر سے شروع ہوگا اور قلعہ کوتھلیشور مندر، ٹانگا اسٹینڈ، ایم جی روڈ اور بسویشور چوک سے ہوتا ہوا بسویشور کالج میدان میں اختتام پذیر ہوگا۔اہم بات یہ ہے کہ جلوس کا راستہ پنکھا مسجد کے قریب سے بھی گزرے گا، جہاں 19 فروری کو کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو نہایت حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے اور جلوس میں ثقافتی جھانکیاں اور روایتی ساز و سامان بھی شامل ہوں گے۔

عوامی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی قسم کی اشتعال انگیزی ہوئی تو حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔شہر کے نازک حالات کے باوجود پروگرام کی اجازت دیے جانے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اجازت نہ دینے کی صورت میں مزید احتجاج یا تناؤ پیدا ہو سکتا تھا، جب کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام میں قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولیس نے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرنے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر پیشگی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک بڑے احتجاج کو محدود رکھنے میں پولیس نے حکمتِ عملی کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی، جسے محکمہ کی اہم کامیابی قرار دیا گیا تھا۔تاہم اس بار اجتماع کی نوعیت مختلف ہے، جس میں مذہبی و ثقافتی پہلو نمایاں ہیں۔ اس لیے انتظامیہ کے لیے چیلنج بھی زیادہ پیچیدہ تصور کیا جا رہا ہے۔

سمیلن کے اجلاس میں مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور شہر کے امن و سکون کو برقرار رکھنے میں تعاون دیں۔ اس جلوس کے پیش نظر انتظامیہ کے سامنے تین بڑے چیلنج ہیں، جن میں حساس علاقوں میں امن و امان کی مؤثر نگرانی ،اشتعال انگیزی کرنے والے عناصر کی نشاندہی ،شہریوں میں اعتماد کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی روانی برقرار رکھنا شامل ہیں ۔شہر کے سنجیدہ حلقے اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ پروگرام پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوگا اور باگل کوٹ میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارہ برقرار رہے گا۔ امن و امان کی ذمہ داری صرف پولیس یا انتظامیہ کی نہیں بلکہ منتظمین اور عوام کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


Share: