تہران، یکم مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سیکوریٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ۸۶؍ سالہ خامنہ ای سنیچر کی صبح سے جاری مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ ٹرمپ نے لکھا:’’وہ ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں وہ، یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما، کچھ بھی نہ کر سکے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہ ایرانی عوام کیلئے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امید ہے کہ آئی آر جی سی(اسلامی انقلابی گارڈ کور) اور پولیس پُرامن طریقے سے ایرانی محبِ وطنوں کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔‘‘
اگرچہ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورت میں خامنہ ای کی ممکنہ شہادت کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم، ان کی موت نے جاری تنازع میں ایک نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ لڑائی مزید بڑھ اور پھیل سکتی ہے۔
خامنہ ای۱۹۸۹ءسے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے شاہ کے بعد کے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای کی جگہ سنبھالی، جنہوں نے۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب کی قیادت کی تھی۔ سپریم لیڈر کو حکومت کی تمام شاخوں، فوج اور عدلیہ پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے، جبکہ وہ ملک کے روحانی پیشوا بھی ہوتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم سٹمسن سنٹرکی ممتاز فیلو باربرا سلاون نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر خامنہ ای کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایران کے پاس ’’ایک منصوبہ‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے کہا:’’ممکنہ طور پر ایک کونسل قائم کی جائے گی جو ملک کو چلائے گی۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، شاید وہ پہلے ہی ملک کا نظم و نسق سنبھال رہی ہو۔ ‘‘