ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی میزائل حملے، دبئی ایئرپورٹ متاثر، خلیج میں ہائی الرٹ

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی میزائل حملے، دبئی ایئرپورٹ متاثر، خلیج میں ہائی الرٹ

Sun, 01 Mar 2026 06:13:26    S O News
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی میزائل حملے، دبئی ایئرپورٹ متاثر، خلیج میں ہائی الرٹ

دبئی یکم مارچ (ایس او نیوز/ایجنسیاں) ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور جواب میں ایران نے وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان حملوں کے اثرات صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں بالخصوص متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت بھی زد میں آ گئے ہیں۔ خطے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک ہیں۔

ایرانی حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی اور اتحادی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا۔ متحدہ عرب امارات میں ابوظبی اور دبئی کے اطراف فضائی دفاعی نظام متحرک رہا اور متعدد اہداف کو فضا میں ہی تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

 قطر میں العدید ایئر بیس کے قریب میزائل حملوں کے بعد سائرن بجائے گئے اور انٹرسیپشن کے ذریعے حملوں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ بحرین میں امریکی بحری تنصیبات، جہاں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے، کے قریب دفاعی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ کویت میں فضائی نگرانی سخت کر دی گئی اور دفاعی کارروائیاں کی گئیں جبکہ اردن کی فضائی حدود میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔

 اسرائیل میں تل ابیب کی سمت میزائل داغے جانے کی اطلاعات ملیں جہاں شہریوں کو بنکروں میں پناہ لینے کی ہدایات جاری کی گئیں اور دفاعی نظام کو فعال کیا گیا۔

کشیدگی کے دوران سب سے نمایاں واقعہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں میزائل گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سرکاری بیان کے مطابق ایئرپورٹ کے ایک ٹرمنل کے حصے کو جزوی نقصان پہنچا اور اس واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے۔ مقامی میڈیا نے واقعے کی وجہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے تباہ کیے گئے میزائل کے ملبے کو قرار دیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر متعدد پروازیں عارضی طور پر معطل یا مؤخر کر دی گئیں جس کے باعث سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے۔ بعد ازاں حکام نے مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی طرح المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی پروازوں کا نظام متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس دوران متعدد ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں دبئی کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کے قریب دھماکوں اور سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں ایک ہوٹل اور دیگر عمارتوں کے اطراف بھی دھواں بلند ہوتا نظر آتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ دعوے وائرل ہو رہے ہیں کہ مبینہ طور پر میزائل ان مقامات پر گرے ہیں۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی ڈرون نے ان عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ آیا مذکورہ عمارتیں کسی براہِ راست حملے کا نشانہ بنی ہیں یا انہیں کوئی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے اور واقعے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

ابوظبی میں حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا تاہم ایک مقام پر گرنے والے ٹکڑوں کے باعث ایک ایشیائی شہری ہلاک اور چند افراد زخمی ہوئے۔ دبئی کے بعض ساحلی علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دو سو سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق جاری ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

امریکی محکمہ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیشتر فوجی اڈوں کو پیشگی الرٹ پر رکھا گیا تھا اور زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ واشنگٹن نے ایران کو مزید کشیدگی بڑھانے سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود محدود یا بند کر دی ہیں جس کے باعث یورپ اور ایشیا جانے والی متعدد بین الاقوامی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے یقینی دیکھی جا رہی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی اس کشیدگی کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ دبئی اور ابوظبی میں بعض نجی و سرکاری تعلیمی اداروں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر عارضی طور پر آن لائن کلاسوں کا اعلان کیا ہے جبکہ چند اداروں میں حاضری محدود کر دی گئی ہے۔ کئی بڑی کاروباری کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شاپنگ مالز اور تجارتی مراکز میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ بعض مقامات پر کاروباری اوقات میں کمی کی گئی ہے۔ سیاحت کے شعبے کو بھی دھچکا پہنچا ہے کیونکہ متعدد بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے باعث ہوٹل بکنگ اور ٹرانزٹ مسافروں کی آمد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تجارتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے سبب سرمایہ کاری کے فیصلے عارضی طور پر مؤخر کیے جا رہے ہیں اور کاروباری برادری محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

خلیجی ممالک نے صورتحال پر ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کیے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت عالمی رہنماؤں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو وسیع پیمانے پر جنگ کی صورتحال سے بچایا جا سکے۔

مجموعی طور پر خلیج بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ نافذ ہے اور صورتحال تاحال غیر یقینی اور تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مستعد ہیں۔


Share: