ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ایران پر امریکی۔اسرائیلی میزائلوں کی بارش؛ خلیج میں ایران کے جوابی حملے، پورا خطہ ہائی الرٹ پر

ایران پر امریکی۔اسرائیلی میزائلوں کی بارش؛ خلیج میں ایران کے جوابی حملے، پورا خطہ ہائی الرٹ پر

Sat, 28 Feb 2026 15:32:17    S O News
ایران پر امریکی۔اسرائیلی میزائلوں کی بارش؛ خلیج میں ایران کے جوابی حملے، پورا خطہ ہائی الرٹ پر

قطر 28 فروری (ایس او نیوز/الجزیرہ ) مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک فوجی تصادم کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر میزائل حملوں کے بعد ایران نے بھی خلیجی خطے میں واقع امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ دارالحکومتوں میں دھماکوں کی گونج سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

امریکی صدر  ڈونالڈ ٹرمپ   نے اعلان کیا ہے  کہ امریکا نے ایران کے خلاف “بڑی جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔ ان کے بیان کے فوری بعد اسرائیلی فوج نے بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف پر میزائل حملوں کی تصدیق کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران میں فوجی تنصیبات کے قریب رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل کی سمت بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کی پہلی لہر شروع کر دی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں قطر کا العدید ایئر بیس، کویت کا السالم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئر بیس اور بحرین میں قائم امریکی پانچواں بحری بیڑا شامل ہیں۔

بحرین میں امریکی نیوی کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت منامہ اور الجفیر کے علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ خبر رساں اداروں کے مطابق بعد ازاں ایک اور دھماکہ بھی رپورٹ ہوا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دھوئیں کے بادل اور فضا میں روشنی کی چمک دیکھی جا سکتی ہے۔

قطر کی وزارتِ دفاع نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا اور کوئی بھی میزائل قطری حدود میں داخل نہیں ہو سکا۔ وزارت کے مطابق پہلے سے منظور شدہ سکیورٹی پلان کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی ایک دھماکے کی خبر سامنے آئی ہے، جبکہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک سمیت خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں اور شہری ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ مغربی ایران کے شہر ارومیہ میں بھی اسرائیلی حملوں کے بعد دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں مخصوص فوجی اہداف تک محدود ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان  محفوظ ہیں اور ان کی خیریت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے باضابطہ تفصیلی بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

تازہ صورتحال نے پورے خطے کو غیر یقینی اور ہنگامی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تصادم ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔


Share: