دبئی 6/ مارچ ( ایس او نیوز): مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں کیے گئے جوابی حملوں کے بعد جی سی سی (Gulf Cooperation Council) ممالک میں فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنے، جہازوں کے روٹس تبدیل کرنے اور بعض خدمات عارضی طور پر معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران، اسرائیل، عراق، قطر، بحرین، کویت اور شام کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث خطے میں فضائی آمد و رفت کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں بھی جزوی پابندیوں کے باعث فضائی آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔
ہوابازی کے تجزیاتی ادارے Cirium کے مطابق 28 فروری سے اب تک مشرقِ وسطیٰ میں 23 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ اس عرصے کے دوران خطے کے لیے یا خطے سے تقریباً 36 ہزار پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے نصف سے زیادہ منسوخ ہو گئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 44 لاکھ نشستیں متاثر ہوئیں۔
ریٹنگ ایجنسی Fitch Ratings کا کہنا ہے کہ اس خلل کی مدت ہی طے کرے گی کہ ایئرلائنز، ہوائی اڈوں اور سیاحت کے شعبے کو کتنا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ فچ کے اندازے کے مطابق اگر یہ تنازع ایک ماہ سے کم مدت تک محدود رہتا ہے تو زیادہ دباؤ نہیں پڑے گا، تاہم اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو کم متنوع کاروباری ادارے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
دبئی، ابوظہبی اور دوحہ جیسے بڑے ٹرانزٹ ہوائی اڈوں پر شیڈول میں تبدیلیاں اور رش دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ ایئرلائنز متبادل راستوں کے ذریعے پروازیں چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فچ کے مطابق 28 فروری سے 5 مارچ کے درمیان خطے کے سات بڑے ہوائی اڈوں پر 15 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں جس سے تقریباً 15 لاکھ مسافر متاثر ہوئے۔
ایئرلائنز کو مالی نقصان اور بڑھتے اخراجات
فچ کے مطابق جب پروازیں آپریٹ نہیں ہو پاتیں تو ایئرلائنز کو براہِ راست آمدنی کا نقصان ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ ایئرلائنز زیادہ متاثر ہوتی ہیں جن کے مرکزی مراکز انہی ممالک میں واقع ہیں جہاں فضائی حدود بند ہیں، کیونکہ ان کا پورا نیٹ ورک علاقائی فضائی راستوں پر منحصر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر کے اوپر سے پروازوں کی گنجائش خاصی محدود دکھائی دے رہی ہے۔
بند فضائی حدود سے بچنے کے لیے جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں جس کے باعث پروازوں کا دورانیہ اور ایندھن کی کھپت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تکنیکی اسٹاپ، عملے کے اضافی اوقات کار، رہائش، اور ایئرپورٹ ہینڈلنگ جیسے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ مسافروں کو کھانا، ہوٹل، ریفنڈ یا واؤچر فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی بعض صورتوں میں ایئرلائنز پر آتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس بحران کی وجہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال ہونے کے باعث مسافروں کو معاوضہ محدود حد تک ہی دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب نشستوں کی کمی کے باعث متاثرہ روٹس پر کرایوں میں اضافہ بھی ممکن ہے، جس سے ایئرلائنز کو کچھ حد تک نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فچ کے مطابق یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی کئی ایئرلائنز عموماً اگلے تین ماہ کی ایندھن کی ضروریات کا تقریباً 50 فیصد سے 80 فیصد تک پیشگی ہیجنگ کر لیتی ہیں۔
جی سی سی سیاحت میں ممکنہ کمی
معاشی تحقیقی ادارے Oxford Economics کے اندازوں کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو 2026 کے دوران خطے میں بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں 11 فیصد سے 27 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ توقعات کے مقابلے میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ سے 3 کروڑ 80 لاکھ تک کم سیاح خطے کا رخ کریں گے، جس سے سیاحت کے شعبے کو 34 ارب سے 56 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے
آکسفورڈ اکنامکس نے دو ممکنہ منظرنامے پیش کیے ہیں: ایک یہ کہ فضائی خلل ایک سے تین ہفتوں تک جاری رہے، جبکہ دوسرا یہ کہ دشمنی تقریباً دو ماہ تک برقرار رہے۔ اندازوں کے مطابق خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک میں سیاحوں کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی ہو سکتی ہے کیونکہ خطے کی سیاحت کا بڑا حصہ انہی ممالک کی جانب جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خاص طور پر زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت میں فضائی رابطوں کا اہم کردار ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل اور ایران میں سب سے زیادہ شرح کے ساتھ کمی متوقع ہے کیونکہ تنازع کا مرکز یہی ممالک ہیں۔ سابقہ اندازوں کے مقابلے میں اسرائیل آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 57 فیصد اور ایران میں 49 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اثرات صرف ایئرلائنز تک محدود نہیں
فچ کے مطابق اس بحران کے اثرات صرف ایئرلائنز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہوائی اڈوں، ہوٹلوں، انشورنس کمپنیوں اور طیارے لیز پر دینے والی کمپنیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یورپی ہوائی اڈوں کو یورپ اور ایشیا کے درمیان کم سفر کے باعث آمدنی اور ریٹیل سیلز میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ بعض ہوائی اڈے پارکنگ آمدنی یا دیگر ریگولیٹری سہولتوں کے ذریعے اس کمی کو جزوی طور پر پورا کر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجود بیشتر بڑے ہوٹل عالمی ہوٹل چینز کے زیرِ انتظام ہیں جن کے کاروبار مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے وہ بکنگ میں آنے والی کمی کو نسبتاً بہتر طریقے سے برداشت کر سکتے ہیں۔ اسی طرح طیارے لیز پر دینے والی کمپنیوں پر بھی اثر محدود رہنے کی توقع ہے کیونکہ ان کے بیڑے دنیا بھر میں مختلف ایئرلائنز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت چل رہے ہوتے ہیں۔
ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق جیسے ہی فضائی حدود کی پابندیاں ختم ہوں گی، سفری سرگرمیاں عموماً تیزی سے بحال ہو جاتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بڑے ہوائی مراکز جغرافیائی اعتبار سے یورپ، ایشیا اور دیگر طویل فاصلے کے سفری راستوں کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے طویل مدت میں خطے کی فضائی اہمیت برقرار رہنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) مشرقِ وسطیٰ کے چھ خلیجی ممالک — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان — پر مشتمل ایک علاقائی سیاسی و اقتصادی اتحاد ہے جو 1981 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس تنظیم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سلامتی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے، جبکہ عالمی فضائی اور تجارتی راستوں میں بھی ان ممالک کا اہم اسٹریٹجک کردار سمجھا جاتا ہے۔
(جسٹین ورگیز کی یہ انگریزی رپورٹ 6 مارچ کو دبئی کے معروف انگریزی روزنامہ گلف نیوز میں شائع ہوئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اُن کے شکریے کے ساتھ ساحل آن لائن کے اردو قارئین کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)