ہر طرف شور سا ہے، مگر کوئی کچھ نہیں کہتا
سیاست کی محفل میں سناٹا بولتا ہے
کرناٹک کی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں خاموشی بھی شور بن چکی ہے، اور مسکراہٹیں بھی تناؤ چھپا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان اقتدار کی اندرونی کشمکش اب نہ صرف پارٹی حلقوں میں گونج رہی ہے بلکہ دہلی کے اقتدار کی راہداریوں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ دونوں لیڈروں کی راہول گاندھی سے الگ الگ ملاقات کی کوششیں، الگ الگ بیانات، اور عوامی جلسوں میں چبھتے طنز ، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ اندرونِ خانہ کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے۔
ڈی کے شیوکمار کا کہنا ہے کہ وہ صبر سے کام لے رہے ہیں، مگر ان کے چہرے کی خاموشی اور زبان کی چمک میں سیاسی تشنگی صاف نظر آتی ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے ہیں کہ ان کے پاس تنظیمی طاقت ہے، کارکنوں کی وفاداری ہے، اور عوامی اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت بھی۔ لیکن دوسری جانب سدارامیا اپنے تجربہ، دلی قربت اور عوامی پالیسیوں کے ذریعے ثابت قدمی سے کرسی پر جمے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ "کرسی خالی نہیں، میں پانچ سال پورے کروں گا" صرف بیان نہیں، بلکہ کانگریس ہائی کمان کی خاموش رضا مندی بھی ہے۔
پارٹی قیادت تاحال کھل کر کسی ایک طرف جھکنے کو تیار نہیں۔ ہائی کمان یہ بخوبی جانتی ہے کہ کرناٹک ان کے قومی منظرنامے میں ایک اہم ریاست ہے، اور یہاں کوئی بھی فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی سے کرنا ہوگا۔ اسی حکمت عملی کے تحت پارٹی نے رندیپ سرجےوالا کو اراکینِ اسمبلی کی رائے لینے بھیجا، تاکہ ایک طرف تنظیمی شور تھمے، اور دوسری طرف کوئی فوری فیصلہ کیے بغیر دونوں لیڈروں کو "اپنے مقام پر" رکھا جا سکے۔
مگر اس پوری کشمکش میں جو سب سے خطرناک اور غیر متوقع پہلو ابھر رہا ہے، وہ ہے "آپریشن کمل" کی افواہ۔ بی جے پی کی جانب سے ماضی میں کی گئی حکومتیں گرانے کی کارروائیاں کرناٹک میں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یڈیورپا اور بعد کے دور میں منتخب حکومت کو گرانا، کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی کو توڑ کر اقتدار حاصل کرنا — یہ سب تازہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جب کانگریس میں قیادت کی اندرونی لڑائی شدید ہو چکی ہے، تو سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونجنے لگا ہے کہ کیا بی جے پی ایک بار پھر “آپریشن کمل” کو سرگرم کرنے کی کوشش کرے گی؟
افواہوں کے مطابق بی جے پی کی نگاہ خاص طور پر ان ناراض کانگریس ایم ایل ایز پر ہے جو یا تو شیوکمار سے ناراض ہیں یا اقتدار کی تقسیم میں خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ اگر قیادت کی لڑائی شدت اختیار کرتی ہے، تو یہی ناراضگی مستقبل میں کسی "سیاسی چال" کا ایندھن بن سکتی ہے۔ بی جے پی کے کچھ سینئر رہنما کھلے عام اس بات کا تذکرہ کر چکے ہیں کہ “کرناٹک میں حکومت زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والی” — یہ بیان کوئی سادہ سیاسی رائے نہیں بلکہ آئندہ چال کی پیشگی دھمک ہے۔
دوسری طرف کانگریس بھی ان خطرات سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی کمان نے فی الحال قیادت میں تبدیلی کے سوال کو مؤخر کر دیا ہے۔ اگر وہ سدارامیا کو ہٹاتے ہیں تو یہ خطرہ ہے کہ شیوکمار کے مخالف حلقے بغاوت کی راہ اپنائیں گے، اور اگر شیوکمار کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو ان کے وفادار حلقے غیر فعال ہو سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں کانگریس کی حکومت غیر مستحکم ہو سکتی ہے — اور یہی بی جے پی کا "سیاسی خواب" ہے۔
سدارامیا فی الحال عوامی پالیسیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ اپنی گارنٹی اسکیموں، کے علاوہ انکے چند اہم اقدامات نہ صرف عوامی مقبولیت کے زاویے سے اہم ہیں بلکہ کانگریس کے اہندا ووٹ بینک کو جوڑ کر رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ مگر ان کے یہ تمام اقدامات اس وقت خطرے میں پڑ سکتے ہیں جب حکومت خود اندر سے کمزور ہو۔
شیوکمار اپنی خاموشی میں بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ ان کی تنظیمی گرفت، مالی استحکام اور لابی کی قوت ایسی ہے کہ انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر فوری تبدیلی ممکن نہیں، تو مناسب وقت پر "حساب چکایا" جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زبان کھولنے سے پہلے حالات کو "بولنے" کا موقع دے رہے ہیں۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس کرناٹک میں ایک ایسی کشتی چلا رہی ہے جس کے دونوں پتوار الگ الگ سمت کھینچ رہے ہیں، اور نیچے سمندر میں بی جے پی کی "کملی موجیں" اسے الٹنے کے انتظار میں ہیں۔ اگر پارٹی قیادت نے بروقت توازن برقرار نہ رکھا تو یہ کشتی کہیں بیچ منجدھار میں نہ الٹ جائے۔
یوں لگتا ہے کہ فی الحال سدارامیا کو ایک سیاسی مہلت مل چکی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ مہلت کس قیمت پر آئی ہے؟ کیا پارٹی متحد رہے گی؟ کیا بی جے پی واقعی "آپریشن کمل 2.0" کے منصوبے پر کام کر رہی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا اقتدار کی یہ خاموش جنگ عوامی خدمت کو پس منظر میں دھکیل دے گی؟
کرناٹک میں آج سیاست صرف کرسی کی جنگ نہیں، بلکہ جماعتی وجود اور نظریاتی توازن کا امتحان بھی ہے۔ اگر اس کشمکش کو سلیقے سے نہ نمٹایا گیا تو آنے والے دن نہ صرف کانگریس کے لیے بلکہ ریاست کی جمہوری سیاست کے لیے بھی ایک چیلنج سے کم نہ ہوں گے۔
اقتدار کی یہ جنگ صرف دو رہنماؤں کے درمیان مقابلہ نہیں، بلکہ یہ کانگریس کی تنظیمی عقل، سیاسی سلیقے، اور مرکز و ریاست کے درمیان تال میل کا امتحان ہے۔ اگر یہ کشمکش زیادہ طول پکڑ گئی تو بی جے پی کے لیے دروازے خود بخود کھل سکتے ہیں۔