ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / طلبہ کو ’معاف‘ کرنے کے مودی کے ویڈیو پر سوالوں کی بوچھاڑ، اپوزیشن کا معافی مانگنے کا مطالبہ

طلبہ کو ’معاف‘ کرنے کے مودی کے ویڈیو پر سوالوں کی بوچھاڑ، اپوزیشن کا معافی مانگنے کا مطالبہ

Sun, 02 Aug 2026 11:47:11    S O News

نئی  دہلی ، 2 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)  وزیراعظم نریندر مودی نے  جمعہ کو دیر رات انسٹا گرام پر   ویڈیو جاری کرے اُن طلبہ کو معاف کرنے کا اعلان کیا جنہوں نے انہیں گالیاں  دیں ۔ بی جےپی کو امید تھی کہ وزیراعظم کے اس ویڈیو کا جین زی اور بڑی عمر کے شہریوں پر مثبت اثر پڑے گا لیکن اس کے برخلاف وہ بری طرح سوالوں  سے گھر گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بی جےپی آئی ٹی سیل کے کارکنوں کی گالیوں سے لے کر دہلی کی سڑکوں پر  طلبہ پر ظالمانہ لاٹھی چارج تک  کے تعلق  سے ان سے پوچھا  جارہاہے کہ  اس پر معافی کون مانگے گا۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ’ایکس ‘ پوسٹ کیا ہے کہ خود کشی کرنےوالے ایک بھی طالب علم کے والدین سے ملاقات نہ کرنے کے باوجود وزیراعظم  میں ’’اتنی جرأت ‘‘ہے کہ وہ طلبہ کو معاف کرنے کی بات کریں۔ تمل ناڈو کے ایک روزہ دورہ  کے دوران  خود کشی کرنےوالے طلبہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد  اپنے پوسٹ میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’پرچے لیک ہوئے، امتحان منسوخ ہوئے،  برسوں کی تیاری ایک ہی رات میں برباد ہو گئی اور وزیر اعظم میں یہ جرأت ہے کہ وہ طلبہ کو’معاف کرنے‘ کی بات کریں۔ طلبہ کو ان کی معافی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں طلبہ سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کو رات ۱۱؍ بجے کے بعدانسٹا گرام پر جاری کئے گئے ویڈیو میں  وزیر اعظم مودی  نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران اپنے اور اپنی  ماں کے خلاف  نازیبا زبان کا استعمال کرنے والے طلبہ کو معاف کرنے کی بات کہی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قانونی کارروائی اس مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ ان’’گمراہ بچوں‘‘ کو صحیح راستہ دکھایا جانا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ (انہیں گالی دیئے جانے پر) سماج میں پھیلی بے  چینی کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس وقت نوجوانوں کو گلے لگانے اور انہیں صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ’’شرارتی بچوں‘‘ نے انہیں انتہائی نازیبا گالیاں دیں اور ایسی زبان استعمال کی  جو  مہذب معاشرہ کیلئے نامناسب ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ ایک ثقافتی صدمہ تھا کہ ہماری بیٹیاں ایسی نازیبا زبان استعمال کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنے ان نوجوانوں کو معاف کر دینا چاہیے جو گمراہ ہو گئے تھے،  وہ ہمارے ہی بچے ہیں۔ انہیں صحیح راستہ دکھانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘حالانکہ اس ویڈیو کے ذریعہ وزیراعظم خود کوبڑا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بطور خاص  طلبہ کے خلاف پولیس کی ظالمانہ لاٹھی چارج اور  پیلٹ گن کے استعمال  کے حوالے سے عام صارفین بھی مذکورہ ویڈیو کے نیچے کمینٹ سیکشن میں سوال کررہے ہیں جبکہ بی جےپی آئی ٹی سیل کی دشنام طرازیوں کا بھی حوالہ دیا جا رہاہے  اور پوچھا جارہاہے کہ ان کا ذمہ دار کون ہے۔

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ اگرچہ وہ مودی سے اس بات پر متفق ہیں کہ نازیبا زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ’’آپ کو یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟‘‘انہوں نے کہاکہ’’آپ کے لوگوں نے کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کو نہیں بخشا، انہوں نے ہر ایک کے خلاف انتہائی غلیظ گالیاں دیں۔‘‘ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ’’گالیاں، معافی  اور ریلز سب توجہ بھٹکانے کی حکمت عملیاں ہیں‘‘، اور زور دیا کہ مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر توجہ برقرار رہنی چاہیے۔انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیاکہ’’صرف ایک حقیقی مسئلہ ہے، امیت شاہ کو پولیس اور سی آر پی ایف/ آر اے ایف کے ظلم کا جواب دینا ہوگا۔ اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال کیا کہ کیا ان لوگوں سے بھی معافی مانگنے کو کہا جائے گا جنہوں نے ’’گالی کو سیاسی ثقافت، نفرت کو انتخابی حکمت عملی اور توہین کو عوامی گفتگو کی قابل قبول زبان بنا دیا ہے۔‘‘ معروف موسیقار وشال ڈڈلانی نے طنزیہ پوسٹ میں کہا کہ لاٹھیاں پیلٹ گن اور دوسری ظالمانہ کارروائیاں چلیں گی مگر گالیاں برداشت نہیں۔

طلبہ کو معاف کرنے کے  وزیر اعظم نریندر مودی  کے  ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی  کے بانی ابھیجیت دپکے نے پہلے تو سوال کیاکہ ’’ریل میں ہی معاف کریں گے یا ایف آئی آر بھی واپس لیں گے؟‘‘ پھر کچھ گھنٹوں  بعدکہا کہ ’’ کیا وزیراعظم بھی طلبہ پر ظالمانہ لاٹھی چارج کیلئے معافی  مانگیں گے؟‘‘


Share: