نئی دہلی ، 5/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) بہت سارے معاملات میں محصور مرکزی حکومت کا منگل کو ایک بار پھر اپوزیشن نے ناطقہ بند رکھا۔ مسلسل احتجاج کی وجہ سے کارروائی کئی بار ملتوی ہوئی اور بعد میں دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔ اس دوران اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور باہر ’مودی شاہ ایوان میں آئیے اور جواب دیجئے‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اس دوران کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ سے جڑے مالیاتی اور انتظامی معاملات پر مرکزی حکومت سے جواب مانگا۔انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ میں قیمتی تحائف، نقد عطیات، زمین کی خریداری اور انتظام و انصرام کے تعلق سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن پر حکومت کو واضح جواب دینا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ یہ معاملہ کروڑوں عقیدت مندوں کے عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرسٹ کی تشکیل مرکزی حکومت نے کی تھی، جس کا اعلان خود وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ٹرسٹ کو۷۰؍ ایکڑ سے زیادہ زمین سونپی ہے اور وزیر اعظم بھومی پوجن سے لے کر پران پرتشٹھا تک ہر اہم موقع پر موجود رہے ہیں۔
کانگریس سربراہ نے کہا کہ ایسے میں وزیر اعظم چڑھاوے کی چوری سمیت ٹرسٹ سے جڑے دیگر سنگین الزامات پر جواب دہی سے بچ نہیں سکتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ای ڈی، سی بی آئی، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے میں کیا کارروائی کر رہی ہیں؟کانگریس صدر نے کہا کہ بھگوان رام کے نام پر اگر کسی بھی قسم کی لوٹ یا بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کے ذمہ داروں کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش بند ہونی چاہئے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے سچائی سامنے لائی جانی چاہئے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا ہنگامہ منگل کو بھی جاری رہا جس کے باعث ایوان نہیں چل سکا اور پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا کو ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر نے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک بار التوا کے بعد دو بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی، اپوزیشن جماعتوں کے اراکین احتجاج کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے اور پوسٹر لہرانے لگے۔ ان کے ہاتھو ں میں پلے کارڈس تھے۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال راجیہ سبھا میں بھی تھی۔ بعد ازاں وہاں بھی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی ہوگئی۔