جمہوریت میں بعض واقعات محض وقتی یا رسمی نہیں ہوتے، بلکہ وہ ریاستی نظام کی سمت، نیت اور آئینی توازن کو پوری طرح عیاں کر دیتے ہیں۔ کرناٹک میں ریاستی اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے مشترکہ اجلاس کے دوران گورنر کی جانب سے حکومت کے تیار کردہ خطاب کو مکمل طور پر نہ پڑھنا اور عجلت میں ایوان سے روانہ ہو جانا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ یہ محض پروٹوکول کی خلاف ورزی یا ذاتی اختلاف کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینی لمحہ ہے جو وفاقی ڈھانچے، ریاستی خودمختاری اور جمہوری روایت پر براہِ راست سوال کھڑا کرتا ہے۔
ریاستی گورنر کا منصب آئینِ ہند میں طاقت کے مرکز کے طور پر نہیں بلکہ توازن کے ستون کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ آئین سازوں کا واضح تصور یہ تھا کہ گورنر منتخب حکومت کا متبادل نہیں ہوگا اور نہ ہی مرکز کی سیاسی ترجیحات کا نمائندہ، بلکہ وہ ایک غیر جانبدار آئینی نگران کے طور پر ریاست اور مرکز کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا۔ مگر عملی سیاست میں، بالخصوص گزشتہ برسوں میں، یہ منصب بتدریج ایک ایسے کردار میں ڈھلتا دکھائی دیتا ہے جو آئینی غیر جانبداری کے بجائے سیاسی تنازع کا محور بنتا جا رہا ہے۔
آئینِ ہند کے تحت گورنر ریاست کا آئینی سربراہ ہوتا ہے، جس کا کردار کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے حامی یا مخالف کے طور پر نہیں بلکہ غیر جانبدار نگران کے طور پر متعین کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 176(1) کے مطابق مشترکہ اجلاس میں گورنر کا خطاب دراصل ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور ترجیحات کا آئینی اظہار ہوتا ہے، جسے کابینہ تیار کرتی ہے۔ اس خطاب کا مقصد ذاتی رائے یا اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ منتخب حکومت کی اجتماعی ذمہ داری کو ایوان اور عوام کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے میں خطاب کو ادھورا چھوڑ دینا اس روایت سے انحراف کے مترادف ہے جو برسوں سے پارلیمانی نظام کا حصہ رہی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ گورنر کو آئین بعض صوابدیدی اختیارات دیتا ہے، مگر یہ اختیارات محدود اور غیر معمولی حالات کے لیے ہوتے ہیں۔ آئین کی روح یہ نہیں کہ ان اختیارات کو سیاسی اختلاف یا عدم اتفاق کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے، بلکہ یہ کہ وہ نظام کے تسلسل اور توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہوں۔ اگر گورنر کو حکومت کے کسی اقدام یا پالیسی پر اعتراض ہو تو اس کے لیے آئینی راستے موجود ہیں، جیسے تحریری نوٹ، مکالمہ، مشاورت یا ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح طلب کرنا۔ ایوان کے وقار کو مجروح کرنے والا طرزِ عمل نہ صرف ادارہ جاتی روایت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔
کرناٹک کا یہ واقعہ کوئی منفرد مثال نہیں۔ تمل ناڈو، کیرالہ، مغربی بنگال اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں گزشتہ برسوں کے دوران گورنر اور منتخب حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ کہیں سرکاری بلوں کی منظوری میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، کہیں اسمبلی خطاب کے متن پر اعتراضات اٹھائے گئے، اور کہیں آئینی اختیارات کے استعمال کو سیاسی زاویے سے دیکھا گیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدرِ مشترک یہ رہی ہے کہ جہاں مرکز اور ریاست میں مختلف سیاسی جماعتیں برسرِ اقتدار ہوں، وہاں گورنر کے کردار پر سوالات زیادہ شدت سے ابھرے ہیں۔ یہ صورتحال وفاقی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا ایسے اقدامات سے واقعی آئین مضبوط ہوتا ہے یا پھر اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد صرف قانونی دفعات پر نہیں بلکہ ان روایات پر بھی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی ہیں۔ جب آئینی عہدوں پر فائز افراد ان روایات سے ہٹ کر عمل کریں تو اس کا اثر محض ایوان تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوام کے ذہنوں میں بھی جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندوں کی آواز آئینی طریقے سے سنی جائے گی اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ کام کریں گے۔
یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گورنر کے عہدے پر خطیر سرکاری وسائل خرچ کیے جاتے ہیں، جو براہِ راست عوامی خزانے سے آتے ہیں۔ اگر یہ منصب عوامی مفاد کے بجائے سیاسی کشمکش کا ذریعہ بن جائے تو اس کی اخلاقی اور آئینی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اسی لیے متعدد آئینی ماہرین اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ یا تو گورنر کے اختیارات کو واضح اور محدود کیا جائے، یا اس عہدے کے کردار پر سنجیدہ قومی سطح کی بحث کی جائے تاکہ وفاقی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔
اس پورے معاملے میں متوازن نقطۂ نظر یہی ہے کہ نہ تو گورنر کے ہر اقدام کو محض سیاسی سازش قرار دیا جائے اور نہ ہی منتخب حکومت کو مکمل طور پر بے قصور سمجھا جائے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ آئینی حدود کو واضح طور پر تسلیم کیا جائے، اختلاف کی صورت میں مکالمے اور آئینی ذرائع کو ترجیح دی جائے، اور ایسے طرزِ عمل سے گریز کیا جائے جو ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچائے۔ گورنر کا منصب طاقت کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ آئینی توازن کے تحفظ کے لیے ہے، اور اسی میں اس عہدے کا حقیقی وقار مضمر ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ کسی ایک دن ایوان میں کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ہم مستقبل میں آئینی روایت کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر آئین کو واقعی ایک زندہ اور متحرک دستاویز مانا جاتا ہے تو اس کی روح کا تقاضا ہے کہ اختلاف بھی شائستگی، حدود اور جمہوری اقدار کے ساتھ کیا جائے۔ جمہوریت کی اصل طاقت انتخابات سے آگے بڑھ کر آئینی اقدار کے احترام میں پوشیدہ ہے، اور اس احترام کا سب سے بڑا امتحان انہی عہدوں پر فائز افراد کا ہوتا ہے جو خود کو آئین کا نگہبان کہتے ہیں۔
اگر اس طرح کے واقعات کو معمول سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو آئینی روایت کمزور ہوگی، اور اگر ان پر سنجیدہ، متوازن اور اصولی مکالمہ ہوا تو یہی واقعات مستقبل میں ادارہ جاتی حدود کو واضح کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ آئین کو محض اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ذمہ داری سمجھا جائے۔
( مضمون نگار عبدالحلیم منصور کا شمار کرناٹک کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا ہے اور مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)