ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جے پور میں سڑک کی توسیع کے لیے بڑی انہدامی کارروائی، مسجد سمیت متعدد مذہبی ڈھانچے مسمار

جے پور میں سڑک کی توسیع کے لیے بڑی انہدامی کارروائی، مسجد سمیت متعدد مذہبی ڈھانچے مسمار

Tue, 09 Jun 2026 11:45:54    S O News

جے پور، 9/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)راجستھان کی راجدھانی جے پور میں سڑک کی توسیع کی کارروائی کے دوران۴؍ منزلہ نورانی مسجد کو پیر کو سرکاری بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کردیاگیا۔ اس کارروائی کی زد میںدیگر عبادتگاہیںبھی آئی ہیں ۔ بلڈوزر کارروائی صبح تقریباً ۷؍بجے شروع کی گئی ۔ اس دوران پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسجد کے ساتھ ہی۴؍ دیگر عبادتگاہوں پر بھی بلڈوزر چلایا گیا۔جے پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (جے ڈی اے) کا آپریشن۸۰؍ فٹ پیر کی صبح نند پوری،مالویہ نگر میں شروع ہوا  اور شام تک کارروائی جارہی رہی ۔ دوپہر تک جے ڈی اے نے بڑی تعداد میں مبینہ تجاوزات کو مسمار کر دیا تھا۔ اس میں نورانی مسجد، ایک مزار ، دو مندر اور ایک ستسنگ بھون شامل تھا۔

حالات کو بے قابو ہونے سے بچانے کیلئے جے پور میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے ہی انٹرنیٹ خدمات کو۲۴؍ گھنٹوں کیلئے بند کر دیا گیا۔ جے پور ڈویژنل کمشنر وی سرون کمار نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور انٹرنیٹ پر مبنی خدمات کے غلط استعمال سے افواہیں پھیلنے اور امن عامہ متاثر ہونے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے انٹرنیٹ خدمات پرعارضی طور سے پابندی لگا دی گئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انہدامی کارروائی شروع کرنے سے قبل جے پور سمیت کئی اضلاع سے فوج طلب کی گئی ۔ معاملہ کرشنا مارگ کی توسیع سے جڑا ہوا ہے جہاں۵؍ مذہبی تعمیرات سڑک پر موجود تھیں ۔ اس انہدامی کار روائی کیلئے اتوار کو ہی سخت سیکوریٹی انتظامات شروع کر دیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے پورے علاقہ کو سیل کر دیا تھا۔

پیر کی صبح جب نورانی مسجد پر بلڈوزرکارروائی شروع کی گئی تو وہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ میڈیا اہلکاروں کو نورانی مسجد سے ایک کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا۔ جن مقامات پر انہدامی کارروائی انجام دی گئی وہاں موجود مکانوں کی چھتوں پر بھی پولیس جوان تعینات تھے اوروہاں سے انہوں نے پورے علاقے کی نگرانی کی۔ انہدامی کارروائی تقریباً۲۲؍ جے سی بی مشینوں کے ذریعے انجام دی گئی۔ موقع پر موجود افسران کا  نے بتایا کہ جب تک پورے علاقہ سے تجاوزات ہٹا نہیںدئیے جاتے تب تک انہدامی کارروائی جاری رہے گی۔قابل ذکر ہے کہ جے پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے اس سے قبل۲۲؍ مئی کو اسی  سڑک پر مہم چلا کر۱۳۴؍تجاوزات ہٹائے تھے۔ اس کے بعد سڑک سے متصل مذہبی تعمیرات اور عبادتگاہو ں کے انتظامیہ اور متعلقہ فریقین کو خود تعمیرات ہٹانے کیلئے وقت دیا تھا۔ مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد انتظامیہ نے خود کارروائی شروع کی۔ افسران کے مطابق کئی مقامات پر کرشنا مارگ کی چوڑائی محض۲۵؍ سے ۳۰؍فٹ رہ گئی ہے جبکہ سرکاری ریکارڈ میں اس کی چوڑائی ۸۰؍ فٹ درج ہے۔ تقریباً۱ء۵؍ کلومیٹر طویل یہ راستہ نند پوری انڈر پاس کو جگت پورہ سے جوڑتا ہے ۔ بروز پیر جب انہدامی کارروائی شروع ہوئی تو پورے شہر میں بی این ایس کی دفعہ۱۶۳؍ نافذ کر دی گئی۔ نورانی مسجد میں تو گزشتہ شب عشا کی نماز کے بعد ہی تالا لگا دیا گیا تھا ۔ صبح کارروائی کے دوران مسجد ٹرسٹ سے وابستہ کوئی بھی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ مسجد کمیٹی کے ساتھ ہی کانگریس  کے۲؍اراکین اسمبلی نے بلڈوزر ایکشن پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے غلط قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی من مانے طریقے سے کی جا رہی ہے۔مسجد کمیٹی کا کہنا ہےکہ یہ مسجد ۴۵؍ سال پرانی ہے۔اسے۱۹۸۱ء میںتعمیر کیاگیا تھااورجس زمین پریہ واقع تھی اسے جے ڈی اے سے منظور شدہ سوسائٹی سے ہی خریدا گیا تھا ۔


Share: