پیرس، 4/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اطلاع دی کہ فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز ’چارلس ڈی گال‘ اب مشرق وسطیٰ سے اپنے گھریلو بندرگاہ ’ٹولون‘ واپس لوٹ رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق اس طیارہ بردار بحری جہاز کو فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز میں مجوزہ کثیر قومی بحری سیکورٹی مشن کی تیاری کے لیے خطے میں تعینات کیا گیا تھا۔
امینوئل میکروں نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے خطے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس کے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے وسائل اور ان کے حفاظتی بحری بیڑے وہیں تعینات رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔
فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدارتی دفتر نے بتایا ہے کہ ’چارلس ڈی گال‘ اس وقت بحیرہ روم میں موجود ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے اپریل کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں مجوزہ کثیر قومی سیکورٹی اسکارٹ مشن کی قیادت کریں گے۔ اس کے بعد مئی میں فرانس نے اس مشن کی تیاری کے لیے ’چارلس ڈی گال‘ کو مشرق وسطیٰ بھیجا تھا، تاکہ کشیدگی میں کمی آنے کے بعد اس مشن کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 جون کو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے اگلے روز میکرون نے کہا تھا کہ اگر حالات سازگار رہے تو ’چارلس ڈی گال‘ 2 سے 3 دن کے اندر آبنائے ہرمز پہنچ کر سیکورٹی اسکارٹ مشن میں شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات میں تقریباً ان تمام نکات سے اتفاق کر چکا ہے جن کی امریکہ کو ضرورت تھی۔ حالانکہ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’سی این بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت کا سب سے بڑا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بات چیت امریکہ کے حق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بات چیت جاری ہے اور آگے کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا ہوگا۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ ہماری تقریباً تمام اہم شرائط سے اتفاق کر چکے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق امریکہ کا مقصد ایران کے خلاف روایتی فوجی کارروائی کرنا نہیں، بلکہ اس کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔