ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، دینی و علمی دنیا ایک عظیم شخصیت سے محروم

مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، دینی و علمی دنیا ایک عظیم شخصیت سے محروم

Mon, 29 Jun 2026 11:34:23    S O News
moulana salman nadvi

لکھنؤ  ، 29/ جون (ایس ا ونیوز /ایجنسی)ملک کے معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور ممتاز دینی رہنما مولانا سید سلمان حسینی ندوی پیر کی صبح لکھنؤ میں 72 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ملک و بیرون ملک کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد علماء، دینی اداروں، طلبہ اور عقیدت مندوں نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ اور علمی دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔  

مولانا سلمان حسینی ندوی کا تعلق ہندوستان کے معروف علمی خانوادے سے تھا۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے طویل عرصے تک وابستہ رہے اور دعوت و تبلیغ، علوم حدیث، فقہ، عربی ادب اور اسلامی فکر کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں تدریس، تصنیف اور بین الاقوامی علمی مکالموں میں فعال کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں برصغیر ہی نہیں بلکہ عرب دنیا سمیت کئی ممالک میں بھی ایک معتبر اسلامی اسکالر کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔  

انہوں نے عربی اور اردو زبان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں اور مختلف علمی و تحقیقی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ان کی تقاریر، دینی دروس اور علمی مضامین دنیا بھر میں شائع اور نشر ہوتے رہے۔ کئی تعلیمی، طبی اور سماجی اداروں کے قیام و سرپرستی میں بھی ان کا اہم کردار رہا، جس کی وجہ سے انہیں محض ایک مذہبی عالم نہیں بلکہ ایک فعال تعلیمی مصلح کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ مولانا کی علمی زندگی کئی دہائیوں پر محیط رہی۔ انہوں نے ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں قرآن، حدیث، اسلامی فقہ، دعوت اور عصری مسائل پر خطابات کیے۔ ان کے شاگردوں اور مستفیدین کی بڑی تعداد ہندوستان، خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور افریقہ میں موجود ہے۔ ان کی شخصیت نے دینی تعلیم اور جدید تقاضوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کی، جس کے باعث وہ مختلف علمی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔

ان کے انتقال پر مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے تعزیتی پیغامات جاری کیے اور ان کی علمی، تعلیمی اور دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

مولانا سلمان حسینی ندوی کی وفات سے ہندوستان کی دینی و علمی روایت کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی تصانیف، خطابات، علمی خدمات اور ہزاروں شاگرد آئندہ نسلوں کے لیے ان کی یادگار کے طور پر باقی رہیں گے۔ علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلامی علوم کی تدریس اور فروغ کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


Share: