ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی کرناٹکا کے انچارج وزیر یو ٹی قادر کا اُتر کنڑا کا دورہ؛ کاروار میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ، بھٹکل میں تنظیم کے وفد نے کیا شاندار استقبال

ساحلی کرناٹکا کے انچارج وزیر یو ٹی قادر کا اُتر کنڑا کا دورہ؛ کاروار میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ، بھٹکل میں تنظیم کے وفد نے کیا شاندار استقبال

Sat, 04 Jul 2026 18:31:24    S O News
ساحلی کرناٹکا کے انچارج وزیر یو ٹی قادر کا اُتر کنڑا کا دورہ؛ کاروار میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ، بھٹکل میں تنظیم کے وفد نے کیا شاندار استقبال

بھٹکل، 4 جولائی (ایس او نیوز): ریاست کرناٹکا کے وزیرِ صحت و خاندانی بہبود اور دکشن کنڑا، اُڈپی، اُتر کنڑا اور کوڈگو اضلاع کے لیے حکومت کے آفاتِ سماوی و قدرتی انتظام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) کے انچارج وزیر یو ٹی قادر نے سنیچر کو ضلع اُتر کنڑا کا دورہ کرتے ہوئے کاروار میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور مختلف انتظامی امور کا جائزہ لیا۔  انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ بارش اور دیگر قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو بلا تاخیر امداد فراہم کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔

کاروار میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں مختلف محکموں کے افسران کے ساتھ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ بارش سے متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر پانچ ہزار روپے کی ابتدائی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر متعلقہ ویلیج اکاؤنٹنٹ (VA) یا پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر (PDO) امدادی رقم کی تقسیم میں غیر ضروری تاخیر کریں تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کے پی ڈی (PD) اکاؤنٹ میں 61 کروڑ روپے دستیاب ہیں، جن میں سے قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کے لیے ضلع کے ہر تعلقہ کو 30،30 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

وزیر یو ٹی قادر نے کہا کہ این ڈی آر ایف (NDRF) کے معاوضے سے متعلق ضوابط میں تبدیلی ریاستی حکومت کے اختیار میں نہیں، تاہم مکمل طور پر منہدم ہونے والے مکان کے متاثرہ خاندان کو مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے تک کا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی طور پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے فوری امداد کے طور پر جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ مکان کی تعمیر کی پیش رفت کے مطابق مرحلہ وار مزید ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں متعدد تجاویز پیش کیں۔

اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے بھی شرکت کرتے ہوئے مانسون کے دوران سڑکوں، بجلی، پینے کے پانی، صحت عامہ، عارضی پناہ گاہوں اور دیگر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔

اس موقع پر وزیر یو ٹی قادر نے ہدایت دی کہ مانسون کے پورے موسم میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بروقت بنیادی سہولیات اور امدادی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے چوبیس گھنٹے الرٹ رہتے ہوئے فوری کارروائی کو یقینی بنائیں۔

ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے موسمی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پری مانسون کے دوران اچھی بارش ہوئی تھی، تاہم موجودہ مانسون سیزن میں اب تک ضلع میں اوسطاً 37 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ بالخصوص مغربی گھاٹ کے بالائی علاقوں میں بارش کی کمی محسوس کی گئی، جبکہ ساحلی علاقوں میں گزشتہ چار روز سے مسلسل اچھی بارش ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جون کے دوران مغربی گھاٹ کے 65 دیہات میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی، جس پر ضلع انتظامیہ نے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

اس سے قبل وزیر یو ٹی قادر مینگلور سے اُڈپی کے راستے ہفتہ کی صبح قریب آٹھ بجے ضلع اُتر کنڑا کے سرحدی شہر بھٹکل پہنچے، جہاں ٹول گیٹ پر مجلس اصلاح و تنظیم کے ایک وفد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وفد نے شال اوڑھا کر ساحلی اضلاع کے انچارج وزیر مقرر ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری کو حال ہی میں دوبارہ تنظیم کا صدر منتخب ہونے پر  وزیر یو ٹی قادر نے بھی شال اوڑھا کراُنہیں مبارکباد دی۔ عنایت اللہ شاہ بندری نے وزیر کو اپنی رہائش گاہ پر ناشتے کی دعوت دی، تاہم وزیر نے کاروار میں مقررہ وقت پر اجلاس میں شرکت کی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی اور تنظیم کی دعوت پر جلد ہی بھٹکل کا تفصیلی دورہ کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے قافلے کے ہمراہ کاروار روانہ ہوئے اور صبح تقریباً ساڑھے دس بجے مقررہ وقت پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچ کر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

صحافیوں سے  گفتگو :  کاروار میں جائزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر یو ٹی قادر نے ریاستی کابینہ میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ وزیر اعلیٰ اور پارٹی ہائی کمان ہی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع میں تاخیر پر کسی بھی رکنِ اسمبلی میں کوئی ناراضی نہیں ہے اور تمام ارکان متحد ہیں۔ ان کے مطابق کابینہ کی تشکیل کے دوران علاقائی اور سماجی نمائندگی سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اس لیے ہر رکن اسمبلی کو وزیر بنانا ممکن نہیں۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں یو ٹی قادر نے کہا کہ یہ عمل مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار میں ہے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی اعتراض ہے تو وہ ریاستی حکومت پر الزام عائد کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن سے رجوع کرے۔


Share: