دھنباد ، 30/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جھارکھنڈ کے دھنباد میں کوئلے کی غیر قانونی کانکنی اور کوئلے کی اسمگلنگ سے وابستہ نیٹورک پر بڑی کارروائی کی ہے۔ رانچی زونل آفس کی ٹیم نے 28 جولائی کو دھنباد میں 31 مقامات پر چھاپے ماری کی ہے۔ یہ کارروائی ’منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ‘ (پی ایم ایل اے) کے تحت انل گوئل، ایل بی سنگھ، ہریندر چوہان اور ان کے معاونین سے وابستہ معاملوں میں کی گئی ہے۔ چھاپے ماری کے دوران گنیش یادو، پپو منڈل، روہت یادو، مادھو سنگھ سمیت کئی لوگوں اور ان سے وابستہ کمپنیوں کی بھی تلاشی لی گئی۔
ای ڈی کے مطابق جانچ کی شروعات جھارکھنڈ پولیس کے ذریعہ درج کی گئی کئی ایف آئی آر کی بنیاد پر ہوئی۔ الزام ہے کہ کوئلے کی غیر قانونی کان کنی، چوری کے کوئلے کی اسمگنگ، کوئلہ اٹھانے کے نام پر بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعہ کروڑوں روپے کی غیر قانونی کمائی کی گئی۔ ان معاملوں میں پولیس کئی چارج شیٹ بھی داخل کر چکی ہے۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ ملزمین نے غیر قانونی کمائی کو جائز ثابت کرنے کے لیے کئی لوگوں اور کمپنیوں کا استعمال کیا۔ اس کے بعد اس رقم سے بڑی تعداد میں منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں خریدی گئیں۔ چھاپے ماری کے دوران ای ڈی نے ایل بی سنگھ کے تقریباً 160 کروڑ کے میوچوئل فنڈ کی سرمایہ کاری کو فریز کر دیا۔ اس کے علاوہ 1.09 کروڑ نقد رقم بھی ضبط کی ہے۔
ای ڈی کو تلاشی کے دوران 200 سے زیادہ مشتبہ غیر منقولہ جائیداد کی خبر بھی ملی۔ کئی ڈیجیٹل آلات، کمپنیوں کے اکاؤنٹنگ سے وابستہ دستاویز اور دیگر اہم ثبوت بھی ملے ہیں۔ ایجنسی کا ماننا ہے کہ ممکن ہے ان جائیدادوں کو غیر قانونی کمائی سے خریدا گیا ہو۔ غور طلب ہے کہ اس سے پہلے نومبر 2025 میں بھی اسی معاملے میں انل گوئل، ایل بی سنگھ اور ان سے وابستہ لوگوں کے ٹھکانوں پر ای ڈی نے چھاپے ماری کی تھی۔ فی الحال ایجنسی اس معاملے میں آگے کی جانچ کر رہی ہے۔