بنگلورو ، 28/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)انیمیشن، بصری اثرات، گیمنگ، کامکس اور توسیعی حقیقت کے شعبوں پر مشتمل سالانہ عالمی اجلاس بنگلورو جی اے ایف ایکس 2026 کا شاندار افتتاح آج ہوٹل للت اشوک، بنگلورو میں عمل میں آیا۔ یہ سہ روزہ سربراہی اجلاس 27 فروری سے یکم مارچ تک جاری رہے گا اور اس کی یہ ساتویں کڑی ہے۔ اس پلیٹ فارم نے بھارت کے ابھرتے ہوئے اے وی جی سی-ایکس آر شعبے میں کرناٹک کی مضبوط حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں ریاست کے وزیرِ اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، وزیر برائے اطلاعاتی ٹکنالوجی و بایوٹکنالوجی پریانک کھرگے، رکنِ اسمبلی رضوان ارشد اور کیونکس کے صدر شرتھ بچے گوڑا سمیت متعدد معزز شخصیات شریک رہیں۔ معروف اداکار و فلم ساز سدیپ سنجیو نے بھی بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اس سال کا موضوع “ایوولوشن ری لوڈڈ” رکھا گیا ہے، جس کے تحت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مصنوعی ذہانت، براہِ راست ٹکنالوجی، ہمہ گیر ذرائع ابلاغ اور جدید کہانی سنانے کے اوزاروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔کانفرنس میں سو سے زائد مکالمے، تربیتی نشستیں اور ورکشاپس منعقد ہوں گی، جن میں دو سو سے زیادہ ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔
اس میں فلم “کانتارا” کے بصری پہلوؤں اور ثقافتی صداقت پر خصوصی گفتگو۔عالمی سطح پر مقبول تخلیقات کے پس منظر اور بصری تکنیکوں پر تفصیلی جائزے۔گیمنگ معیشت، عالمی منڈی میں بھارت کے بڑھتے کردار اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مباحثے۔عالمی شہرت یافتہ اسٹوڈیوز کی جانب سے بصری اثرات اور متحرک فلم سازی کے اسرار سے پردہ اٹھانے والے سیشن۔بھارتی داستانی روایت کو عالمی مواد کی تخلیق کی بنیاد بنانے پر خصوصی پروگرام ہورہے ہیں ۔
جی اے ایف ایکس 2026 میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ کہانی کے ابتدائی خاکے سے لے کر مناظر کی تخلیق، کرداروں کی حرکت، پس منظر سازی اور فوری عکس بندی تک — مصنوعی ذہانت کس طرح تخلیقی عمل کو تیز اور مؤثر بنا رہی ہے، اس پر عملی مظاہرے پیش کیے جائیں گے۔ماہرین کے مطابق جدید اوزار نہ صرف لاگت اور وقت میں کمی لا رہے ہیں بلکہ عالمی معیار کی تخلیق کو بھی ممکن بنا رہے ہیں۔
گیمنگ کے شعبے کو اس بار خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ عالمی ماہرین اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ کس طرح بھارت ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈی بن رہا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کہانیوں کی تخلیق اور فروغ کے نئے در وا کر رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک بھارت کی ذرائع ابلاغ و تفریحی صنعت میں تقریباً بیس فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ریاست میں تین سو سے زائد اے وی جی سی-ایکس آر اسٹوڈیوز سرگرم عمل ہیں، جہاں پندرہ ہزار سے زائد ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ریاستی پالیسی 2024 تا 2029 اور مرکزِ امتیاز کے قیام نے بنیادی ڈھانچے، مہارتوں کی تربیت اور عالمی شراکت داری کو تقویت دی ہے۔ اب “مرکزِ امتیاز 2.0” کے تحت اس ماحولیاتی نظام کو دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں تک وسعت دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں سرمایہ کاروں کی نشستیں، تخلیقی مقابلے، کامکس اسٹریٹ، بورڈ گیمز کی رونمائی اور خصوصی روابطی پروگرام بھی شامل ہیں، جن کا مقصد عالمی اشتراک اور برآمدی مواقع کو فروغ دینا ہے۔منتظمین کے مطابق ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے اور یہ اجلاس بھارت کی تخلیقی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ذریعہ بنے گا، جہاں ثقافت، تخلیق اور جدید ٹکنالوجی ایک مقام پر جمع ہو رہی ہیں۔