ممبئی ، 5/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)بامبے ہائی کورٹ نے پیپر لیک اور تعلیمی اداروں کی بد عنوانیوں کو روکنے اور اس تعلق سے فوری سماعت کرنے کیلئے گزشتہ ماہ ۲؍ فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی تھیں ۔ اب اس طرح کی مزید ۲۳؍ فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام طلبہ کے ملک گیر احتجاج کے بعدامتحانات کے دوران پیپر لیک اور دیگرمجرمانہ سرگرمیوں پر منصفانہ سماعت کرنے اور تین ماہ میں فیصلہ سنانے کے لئے مذکورہ خصوصی عدالتوں کا قیام کیا گیا ہے ۔
اس سلسلہ میں بامبے ہائی کورٹ کے کار گزار چیف جسٹس رویندر گھوگے نےکئی اضلاع میں عدالتی افسران کو آئین کی مختلف دفعات کے تحت مقررکیا ہے۔اس ضمن میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قائم کردہ عدالتیں بیڑ، چندرپور، دھولیہ، گڈچرولی، گوندیا، جلگاؤں، جالنہ، کولہاپور، ناسک، عثمان آباد، پربھنی، پونے اور سانگلی میں قائم کی گئی ہیں۔ اسی طرح ستارہ، شولاپور، تھانے، وردھا، ایوت محل، واشم اور نندوربار میں بھی اسی قسم کی عدالتیںقائم کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ممبئی میں سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ اور چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے ایک ایک جج کو ایسے مقدمات کی خصوصی سماعت کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔یہ تازہ نوٹیفکیشن ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد آیا ہے جس میں اورنگ آباد اور ناگپور میں دو خصوصی تیز رفتار عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ واضح ہو کہ اورنگ آباد میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایس وی پوار اور ناگپور میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ گلشن آر کولٹے کو ۲۰۲۴ء ایکٹ، بھارتیہ نیائےسہتااور مہاراشٹر پریونشن آف میل پریکٹس ایکٹ کے تحت سماعت کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ کے احتجاج کے بعد وزیر اعظم مودی نے پیپر لیک سے متعلق فاسٹ ٹریک کورٹ میں سماعت کرنے کا فرمان جاری کیا تھا ۔ تاہم وزیر اعظم کے اعلان پر مرکزی وزارت قانون نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک کی تمام ریاستوں میں پیپر لیک اور امتحانات کے دوران تعلیمی اداروں میں ہونے والی بد عنوانی پر روک لگانے اور اس ضمن میں درج کردہ مقدمات پر شنوائی کرنے اور تین ماہ میں فیصلہ سنائے جانے کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی ہیں ۔