ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر میں ہندوستان مخالف مسلح جدوجہد جاری رہے گی: صلاح الدین

کشمیر میں ہندوستان مخالف مسلح جدوجہد جاری رہے گی: صلاح الدین

Sun, 02 Jul 2017 14:48:44    S.O. News Service

اسلام آباد،یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکا کی طرف سے حال ہی میں دہشت گرد قرار دیے گئے سرکردہ کشمیری عسکریت پسند رہنما سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ متنازعہ خطے کشمیر کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے میں ان کی تنظیم کی ہندوستان کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رہے گی۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفر آباد سے ہفتہ یکم جولائی کے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق سید صلاح الدین کو امریکی حکومت نے ابھی حال ہی میں، جب بھارتی وزیر اعظم مودی امریکا کا دورہ کرنے والے تھے، ایک عالمگیر دہشت گرد قرار دے کر نہ صرف بلیک لسٹ کر دیا تھا بلکہ ان پر دیگر پابندیاں بھی عائد کر دی گئی تھیں۔

مظفر آباد میں آج یکم جولائی کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اپنی ان قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، جن کے تحت کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ اپنے لیے آزادی چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق۔سید صلاح الدین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف مسلح تحریک چلانے والے عسکریت پسندوں کے سب سے بڑے گروپوں میں شمار ہونے والے گروہ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ہیں۔ انہیں امریکی حکومت نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں اس وقت ایک عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا، جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں اپنے پہلے سرکاری دورے کے لیے واشنگٹن پہنچنے والے تھے۔

ہندوستانی فوج نے مسلح باغیوں کے خلاف ابھی حال ہی میں ایک تازہ کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ اس دوران بیس دیہاتوں کا محاصرہ کیا گیا۔ نئی دہلی کا الزام ہے کہ اسلام آباد حکومت شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔حزب المجاہدین کے باغیوں کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی تنظیم آئندہ بھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نئی دہلی کے فوجی دستوں کے خلاف اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے گی۔ہندوستان کا الزام ہے کہ پاکستان کشمیر کے اپنے زیر انتظام حصے سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جا کر مسلح کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے لیکن پاکستانی حکومت اپنے خلاف نئی دہلی کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔جموں کشمیر کی منقسم ریاست سات عشرے قبل تقریبابرصغیر کی تقسیم کے وقت ہی سے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ خطہ ہے۔ یہ دونوں جنوبی ایشیائی ملک ہمسائے ہونے کے علاوہ ایک دوسرے کے روایتی حریف بھی ہیں اور دو ایٹمی طاقتیں بھی۔زیادہ تر کشمیر ہی کے مسئلے کے باعث ان دونوں ممالک کے مابین اب تک تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ دوسرے فریق نے کشمیر کے اپنے زیر انتظام حصے پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں ہی پورے جموں کشمیر پر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔


Share: