منڈیا، 25 جون (ایس او نیوز): کاویری ندی کے کنارے سیلفی لینے کے دوران چار خواتین سمیت پانچ افراد کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا المناک حادثہ کرناٹک کے ضلع منڈیا کے "مَڵَوَڵّی تعلقہ میں واقع مشہور سیاحتی مقام متھّتی میں بدھ کی شام پیش آیا۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کی چار خواتین اور انہیں بچانے کی کوشش کرنے والا کار ڈرائیور شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے ایک خاتون کا پاؤں پھسل کر ندی میں گر گیا، جسے بچانے کی کوشش میں مزید چار افراد بھی پانی میں اتر گئے، مگر وہ بھی تیز بہاؤ کی زد میں آکر ڈوب گئے، جس کے نتیجے میں پانچوں کی موت واقع ہوگئی۔
مہلوکین کی شناخت چنّا پٹنا تعلقہ کے جگدپور گاؤں کی رہائشی وجے امّا (52)، ان کی بیٹی شویتا (38)، نواسی چیترا (20)، رشتہ دار پریانکا (28) اور بنگلورو کے رہائشی کار ڈرائیور مہیش (30) کے طور پر کی گئی ہے۔ تمام افراد ایک ہی خاندان کے ساتھ سیاحتی دورے پر آئے تھے جبکہ مہیش ان کی گاڑی چلا رہا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افراد کبالو مندر میں ایک مذہبی تقریب اور خاندانی دعوت میں شرکت کے بعد متھّتی پہنچے تھے۔ وہاں واقع مندر میں درشن کرنے کے بعد وہ کاویری ندی کے کنارے تصاویر اور سیلفیاں لینے میں مصروف تھے۔

ذرائع کے مطابق خاندان کے افراد ندی کے اندر دکھائی دینے والے ایک بڑے پتھر تک پہنچ کر تصاویر کھنچوانا چاہتے تھے۔ ندی کا پانی اس مقام پر اس قدر شفاف تھا کہ اس کے اندر موجود پتھر صاف دکھائی دے رہے تھے، جس سے انہیں پانی کی اصل گہرائی اور وہاں موجود خطرے کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ بتایا گیا ہے کہ وجے امّا کا اچانک پاؤں پھسل گیا اور وہ پانی میں جا گریں۔ انہیں بچانے کی کوشش میں پہلے ان کی بیٹی شویتا، پھر چیترا اور پریانکا پانی میں اتر گئیں، لیکن چند ہی لمحوں میں سبھی خواتین پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آ گئیں۔
خواتین کو ڈوبتا دیکھ کر قریب ہی موجود کار ڈرائیور مہیش نے انہیں بچانے کے لیے ندی میں چھلانگ لگا دی، مگر وہ بھی پانی کے شدید بہاؤ کا مقابلہ نہ کرسکا اور ڈوب گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے پانچوں افراد پانی میں بہہ کر غائب ہوگئے، جس کے بعد موقع پر موجود دیگر افراد میں افرا تفری مچ گئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہلگورو پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے اہلکار اور ماہر تیراک جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا اور شام تقریباً سات بجے تک تمام لاشوں کو ندی سے باہر نکال لیا۔ بعد ازاں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی جائیں گی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کمار، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ وی جے شوبھا رانی، ڈی وائی ایس پی یشونت کمار اور ہلگورو پولیس اسٹیشن کے پی ایس آئی لوکیش موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ افسران نے ریسکیو کارروائی کی نگرانی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی۔
یاد رہے کہ متھّتی کاویری ندی کے کنارے واقع کرناٹک کا ایک معروف سیاحتی مقام ہے جہاں سال بھر ہزاروں سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے اور مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ تاہم ندی کے بعض حصوں میں اچانک گہرائی، خطرناک بھنور اور تیز بہاؤ موجود ہے، جس کے باعث ماضی میں بھی متعدد جان لیوا حادثات پیش آچکے ہیں۔
مارچ 2024 میں بھی متھّتی میں ایک شخص کو بچانے کی کوشش کے دوران چار افراد کاویری ندی میں ڈوب گئے تھے، جبکہ فروری 2025 میں دو نوجوان خواتین ندی میں نہاتے وقت جان کی بازی ہار گئی تھیں۔ تازہ سانحے کے بعد ایک بار پھر متھّتی میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے، خطرناک مقامات پر حفاظتی باڑ نصب کرنے، اضافی انتباہی بورڈ لگانے اور مستقل لائف گارڈس تعینات کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔