ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں نابالغ حاملہ لڑکی کی خود کشی - پولیس کمشنر نے کہا : فوجداری معاملات میں برادری کی بنیاد پر ہوتا ہے جانبدارانہ عوامی رد عمل

منگلورو میں نابالغ حاملہ لڑکی کی خود کشی - پولیس کمشنر نے کہا : فوجداری معاملات میں برادری کی بنیاد پر ہوتا ہے جانبدارانہ عوامی رد عمل

Sat, 27 Jun 2026 17:34:28    S O News
Minor Girl's Suicide Police Commissioner

منگلورو،  27 / جون (ایس او نیوز) سٹی پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے کہا ہے کہ شادی کے وعدے پر  ایک نابالغ لڑکی سے جنسی تعلقات کے قائم کرکے حاملہ  بنانے اوراس کی وجہ سے ہوئی لڑکی کی خودکشی کے مبینہ طور پر ذمہ دار گنج مٹھ کے رہنے والے ملزم منیش پجاری کو واقعہ کے دن ہی گرفتار کیا گیا تھا ۔

پولیس کمشنر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کیس میں ڈی این اے معائنہ کے شواہد دستیاب ہیں اور یہ ثبوت ملزم  کو سزا دلوانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اس معاملے میں اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ۔

نابالغ حاملہ لڑکی کی خودکشی کے بعد سماج کے بعض طبقات کے ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے سدھیر کمار ریڈی نے سوال کیا کہ فوجداری مقدمات کے تعلق سے رد عمل ظاہر کرنے کے طرز اور طریقے میں بنیادی تضاد ظاہر ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ "کچھ طبقے لڑکی کے حق میں انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں ۔ لیکن فوجداری مقدمات میں جس طرح سے رد عمل کا اظہار کیا جاتا ہے اس میں ایک بنیادی تضاد ہے ۔ جب ملزم کسی اور برادری سے تعلق رکھتا ہے تو فوری انصاف کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لیکن جب ملزم اپنی ہی برادری سے تعلق رکھتا ہے تو پھر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ اس طرح کے غم و غصے سے فرقہ وارانہ حساسیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اگر ہم متاثرہ فرد کے بجائے انصاف کے لیے پرعزم ہیں تو پھر ہر معاملے میں ملزم کو ایک ہی معیار سے دیکھا جانا چاہیے ۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "جرم ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور کوئی بھی کمیونٹی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں ہے  کیونکہ مجرم ہر جگہ موجود ہیں ۔"

اس دوران کٹی پلہ کی  نابالغ حاملہ لڑکی کی خودکشی کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے ۔ اس کیس کے سلسلے میں پولیس نے منیش پجاری نامی ایک نوجوان کو حراست میں لے کر اہم شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تفتیش تیز کر دی ہے ۔

نابالغ لڑکی نے مبینہ طور پر 24 جون کو خودکشی کی تھی اور اس نے ایک ڈیتھ نوٹ چھوڑا تھا جس میں اس نے پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بتائی تھی ۔ مبینہ طور پر اس نے انتہائی قدم اس وقت اٹھایا جب اس کے والدین کام پر گئے ہوئے تھے ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی این اے شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں جن سے تفتیش میں مدد ملے گی ۔ پولیس کمشنر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لڑکی کے معاملے سے جڑے ہوئے گروہ کے کچھ ارکان کے منشیات کے نیٹ ورک سے تعلقات تھے ۔ اس لئے اس معاملے میں متعدد زاویوں سے پولیس کی تفتیش جاری ہے ۔


Share: