میسورو، 29/ جون (ایس او نیوز/ایجنسی)سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کا الیکشن کمیشن پہلے کی طرح مکمل طور پر آئینی تقاضوں کے مطابق کام نہیں کر رہا اور خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے ذریعے اہل ووٹروں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے کانگریس کے تمام قائدین اور کارکنوں کو آئندہ ایک ماہ تک پوری مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔
وہ میسورو میں منعقدہ ایس آئی آر بیداری اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
سدارامیا نے کہا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل نیا نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے قیام اور 1952 کے پہلے عام انتخابات کے بعد سے یہ عمل جاری ہے، لیکن آئین الیکشن کمیشن کو کسی بھی اہل ووٹر کا نام بلاجواز حذف کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں، خصوصاً 2014 کے بعد، انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں تقریباً 96 کروڑ ووٹر موجود ہیں اور کئی اسمبلی و پارلیمانی حلقوں میں امیدوار چند ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہزاروں اہل ووٹروں کے نام فہرست سے نکال دیے جائیں تو انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور اقلیتی برادریوں کے ووٹ نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 30 جون سے 29 جولائی تک جاری رہنے والی خصوصی نظرثانی مہم کے دوران کانگریس کے ارکان اسمبلی، سابق عوامی نمائندے، عہدیداران اور کارکن گھر گھر جا کر ووٹر فہرستوں کی جانچ کریں، بی ایل اوز کے ساتھ رابطہ رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ ہونے پائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کر رہی ہے اور آئینی اداروں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مہاراشٹر، ہریانہ اور دیگر بعض ریاستوں کے انتخابی نتائج پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سدارامیا نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر مسلسل نظر رکھیں، عوام میں بیداری پیدا کریں اور ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اہل ووٹروں کے نام حذف ہونے سے نہ روکا گیا تو اس کے اثرات مستقبل کے انتخابی نتائج پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام کارکن آئندہ ایک ماہ تک اس مہم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔