بنگلورو، 29/ جون (ایس او نیوز/ایجنسی)نائب صدر جمہوریہ سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ "نشہ مکت بھارت" کا خواب صرف حکومت کی کوششوں سے پورا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے تعلیمی اداروں، خاندانوں، طبی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کے خلاف مہم ہر فرد سے شروع ہو کر قومی تحریک کی شکل اختیار کرنی چاہیے۔
وہ شری کنٹھیراوا آؤٹ ڈور اسٹیڈیم میں راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (RGUHS) کے 31ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ "نشہ مکت بھارت کانکلیو" سے خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کا انعقاد آر جی یو ایچ ایس، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) اور دِشا بودھ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔
نائب صدر نے کہا کہ منشیات کا استعمال صرف ایک فرد کی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ تعلیم، پیداواری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات انسان کے ذہن پر قابض ہو جاتی ہیں، جس کے بعد انسان اپنی زندگی پر بھی اختیار کھو دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی لت کے باعث ضائع ہونے والی ہر نوجوان زندگی دراصل قوم کے قیمتی سرمایہ کا نقصان ہے۔ انہوں نے طلبہ، خصوصاً مستقبل کے ڈاکٹروں، نرسوں، فارماسسٹوں، ماہرینِ نفسیات، محققین اور صحتِ عامہ کے ماہرین سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف بیداری کے سفیر بنیں اور روک تھام، علاج، تحقیق اور مؤثر پالیسی سازی میں قائدانہ کردار ادا کریں۔
سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے نشے کے علاج، ذہنی صحت، رویہ جاتی علوم اور کمیونٹی سطح پر مداخلت سے متعلق تحقیق کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی تحقیق اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے منشیات سے نجات کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مشاورتی خدمات اور ہم عمروں کے تعاون کے نظام کو بھی اہم قرار دیا۔
نائب صدر نے کہا کہ بطور چانسلر تین مرکزی جامعات وہ مسلسل منشیات سے پاک تعلیمی اداروں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں شروع کی گئی ڈرگ فری کیمپس مہم اور ای۔پلیج پلیٹ فارم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیمی ماحول کو منشیات سے پاک بنانے میں مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
انہوں نے راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو یومِ تاسیس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے صحت کی تعلیم، تحقیق اور عوامی صحت کے فروغ میں یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔
اس موقع پر نائب صدر نے قومی پلس پولیو مہم کے تحت شیر خوار بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے، جبکہ یونیورسٹی کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سابق وائس چانسلرز کو بھی اعزازات سے نوازا۔
تقریب میں کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوٹ، وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار، آندھرا پردیش کے گورنر جسٹس (ریٹائرڈ) سید عبدالنذیر، وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر شرن پرکاش آر۔ پاٹل، وزیر صحت و خاندانی بہبود یو۔ ٹی۔ قادر فرید، آر جی یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر بھگوان، رجسٹرار ڈاکٹر ریاض باشاہ سمیت متعدد معزز شخصیات اور اعلیٰ حکام شریک تھے۔