نئی دہلی،30جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق مرکزی وزیراور لوک سبھامیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر طارق انور نے گؤرکشکوں سے متعلق دیئے گئے ان کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آج کہا ہے کہ وزیراعظم جس وقت گؤ رکشکوں کو گائے کے نام پر انسانوں کو قتل نہ کرنے کا گیان دے رہے تھے اسی وقت بی جے پی اقتدار والی ریاست جھارکھنڈ میں پولس اور سسٹم کی موجودگی میں ایک مسلمان کا گائے کے نام پر قتل کیا جارہاتھا ۔ سینئر مسلم رہنما طارق انور نے ایک سال قبل وزیراعظم نریندر مودی کو ان کے دیئے گئے بیان کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ انہوں نے گائے کے نام پر انسانوں کے قتل کی شدید مخالفت کی تھی ۔ وزیراعظم نے 80فیصد گؤرکشکوں کو فرضی قرارد یتے ہوئے کہاتھاکہ یہ دن میں کچھ کرتے ہیں اور رات میں کچھ کرتے ہیں ۔ انہوں نے ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے لوگوں کاڈوزیئر تیار کریں تاکہ ان کیخلاف سخت کارروائی ہو، لیکن مودی نے آج تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کن کن کا ڈوزیئر تیار ہوا اور ان کی اپنی ریاستوں نے اس سمت میں کیاکیا۔طارق انور نے کہاکہ اس وقت کے ان کے بیان میں ایک طرح کی بے بسی بھی تھی کہ گائے کے نام پر میرے دلت بھائیوں کو مت مارو اگر مارنا ہے تو مجھے گولی ماردو، یہ ایک وزیراعظم کا بیان نہیں ہوسکتا ہے ، آخر مودی یہ کیوں نہیں بتاتے کہ وہ گؤرکشکوں کیخلاف عملی طور پر کوئی کارروائی کرنے سے قاصر کیوں ہیں۔ طارق انور نے کہاکہ وزیراعظم کے اس بیان کو ایک سال کا عرصہ گذر گیا ہے ،لیکن گائے کے نام پر انسانون کے قتل کے واقعات میں کمی کے بجائے تیزی سے اضافہ ہواہے ۔ انہوں نے تلخ لہجہ میں کہاکہ وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ کیا واقعی ان کے منہ میں گاندھی اورعمل میں گوڈسے ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر وہ واقعی میں گائے کے نام پر انسانوں کے قتل کے خلاف ہیں تو ایسا عمل کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی مخالف قانون (انٹی ٹیررسٹ ایکٹ )کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟بہتر ہوگاکہ ان کا اسپیڈی ٹرائیل فاسٹ ٹریک عدالتوں میں کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں اس طرح کی حرکت کی جرات نہ کرسکیں۔ طارق انور نے ملک کے داخلی حالات کو لے کر حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہاکہ سرکار ملک کو آگ میں نہ جھونکے ورنہ اس سے ملک کا شدید نقصان ہوگا ۔ اور اگر وہ یہ سوچتی ہے کہ نفرت پھیلانے سے اقتدار مل جائے گاتو یہ اس کی بڑی بھول ہے کیونکہ نفرت پھیلانے سے ملک کھوکھلاہوجائے گا اور معاشی اعتبار سے مکمل تباہ ہوجائیگا ۔