میسور،25/نومبر (ایس او نیوز) سرزمین ٹیپوسلطان میسور میں جاری کل ہند کنڑا ادبی سمیلن کی کرسی صدارت پر براجمان چندرشیکھر پاٹل(چمپا) نے کل اپنے خطاب میں سب کو چونکانے والی باتیں کہیں۔ چمپا کے بعد آج سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کے ایس بھاگوان نے بتوں اور مندروں کے پجاریوں کو ششدر کردیا ۔ ان کی باتوں سے زعفرانی گروہ سیخ پا ہوگیا۔ 83؍ ویں کل ہند کرناٹک ادبی کانفرنس میں میسور کے مہاراج کالج کے صدسالہ بھون میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کے ایس بھگوان نے کہا کہ مندروں کو نہ جائیں ،مندروں سے دور رہیں ، اگر وہاں چلے گئے توآپ بے وقوف اور کند ذہن ہوجائیں گے ،رام کوئی خدا نہیں ہے، کنڑا ادبی میلہ میں رام کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بھگوان نے کہا کہ رام ایک ذات پات کاقائل شخص تھا ، ذات واد تھا، وہ خدا نہیں ہے۔ وہ اتنا سنگ دل تھا کہ جب اس کی بیوی حاملہ ہوگئی تھی تو اس نے بھری عورت کو جنگل بھیج دیا اور کئی لوگوں کا قاتل بھی ہے۔ رام نے کئی افراد کا قتل بھی کیا ہے۔ ایسے بے رحم قتل کرنے والے رام کی چند لوگ مندر بنانے جارہے ہیں۔ یہ بات کہنا ہی تھا کہ مجلس میں بیٹھے چند لوگ نعرہ لگاتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوگئے اور بھگوان سے کہا کہ تیرا اس طرح کہنا غلط ہے۔ پروفیسر بھگوان کی حمایت میں بھی چند لوگ کھڑے ہوگئے وہ جوکچھ کہہ رہے ہیں بالکل صحیح ہے ۔ اس طرح دونوں گروپوں کے درمیان لفظی جھڑپ شروع ہوگئی۔ بھگوان کا خطاب ختم ہونے تک آڈیٹوریم میں حمایت ومخالفت میں آوازیں سنی جاتی رہیں۔خطاب کے بعد پروفیسر بھگوان کو سخت پولیس پہرہ میں گھر لے جایا گیا۔ کل صدراتی خطاب کرتے ہوئے چمپا نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت ہندی زبان مسلط کرنے پر کاربند نظرآرہی ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا کی حمایت سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ چمپا نے کل کچھ روایت شکن کام بھی کئے،عمومی طور پر افتتاح کے موقع پر صدر اجلاس کنڑا کی دیوی بھونیشوری کی پوجا کرتا ہے، چمپا نے پوجا سے انکار کرتے ہوئے مندرمیں جانے سے بھی اعتراض کیا۔ میسور کا روایتی پیٹھا پہننے سے بھی صاف انکار کردیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے صدارتی خطاب میں کہا کہ کنڑا ایک زبان ہے، زبان کو دھارمک ریت ورسوم سے نہ جوڑیں ، یہاں جو لاکھوں افراد جمع اس لئے ہوئے ہیں کہ ان کو کنڑا سے محبت ہے۔ ان لوگوں میں مختلف ذاتوں ، مختلف مذہبوں کے ماننے والے بھی ہیں۔ اگر اس زبان کو کسی خاص مذہب سے جوڑدیا جائے تو یہ خود کنڑا زبان کی توہین ہے۔