بنگلورو ،17؍اکتوبر(ایس او نیوز)اسو سی ایشن برائے تحفظ سول حقوق (اے پی سی آر) بنگلورو ضلعی یونٹ کی جانب سے آر ٹی نگر مسجد اعلیٰ المپلکس میں عوام کو قانونی نظام ، سیاسی و سماجی صورتحال ، شہریوں کے حقوق و فرائض سے واقف کرانے ایک کار آمد پروگرام منعقد کیا گیا اور اس پروگرام کے ذریعہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کامیابی کوشش کی گئی۔ اسوسی ایشن فار پروٹکشن آف سول رائٹس نامی ادارہ بنگلورو یونٹ کے صدر عبدالسلام اڈوکیٹ نے بتایا کہ گذشتہ 9برسوں سے یہ ادارہ اس طرح کے پروگرام ریاست بھر میں منعقد کر کے عوامی بیداری لانے کی بھر پور کوشش کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف جیلوں کا دورہ کر کے جیل میں قید بے گناہ قیدیوں کی رہائی کیلئے ان کی قانونی امداد اور انہیں رہا کروانے کیلئے بھی جدوجہد کرتا آرہا ہے۔ اب تک کئی بے گناہ قیدیوں کو اے پی سی آر کی جانب سے قانونی امداد فراہم کی گئی ہے۔ ادارہ کے ضلعی دفتر 26؍ اضلاع میں قائم کردئے گئے ہیں ۔جلد ہی ریاستی سطح کا ایک اجلاس بنگلورو یا کسی دوسرے بڑے شہر میں منعقد کیا جانے والا ہے۔ 20؍اضلاع میں ان کا ادارہ سرگرم ہے اور ہر ضلع میں 10تا 15ممبرس بنائے جارہے ہیں۔ اس بیداری پروگرام میں کرناٹک ہائی کورٹ کے اڈوکیٹ بی ٹی ونکٹیش اور عبدالرشید کے علاوہ لکشمن مورتی پینل اڈوکیٹ لیگل سرویس اتھارٹی بنگلورو نے اس علاقہ کے عوام کو قانونی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی ہورہی ہے۔ حقوق انسانی کیلئے جو پیمانہ اور قانونی ادارہ جات قائم کئے گئے ہیں۔ خصوصاً پولیس اور عدالت نا کام ثابت ہو رہے ہیں آج خود پولیس بھی اپنے حقوق و فرائض سے ناواقف ہونے کی وجہ سے حقوق انسانی کی ایسی بے شمار خلاف ورزیاں دیکھی جارہی ہیں مثلاً شہریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ، غیر ضروری گرفتاریاں ، حراست میں ہونیوالی اذیت رسانی اور جانچ کے دوران لوگوں کے ساتھ نارواسلوک وغیرہ ان حالات میں آج ایسے سماجی اداروں کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے جو لوگوں کو حقائق سے ، حقوق سے اور فرائض سے انہیں آگاہ کرے اور ساتھ ہی عوام کو ہمارے موجودہ قانونی نظام سے بھی واقف کرانا ضروری ہے۔ پولیس کے ذریعہ ہونے والے غیر منصفانہ قوانین کے خلاف جدوجہد کرنے کی عوام اور پولیس کو ان کے حقوق اور فرائض سے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے قید خانوں کی اصلاح کرنے کی ساتھ ہی قید سے رہا ہونے والوں کی باز آباد کاری کیلئے مراکز قائم کرنے کی بھی سماج میں ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ قید خانوں میں زیادہ تر بے گناہ افراد ہی کو سزا کاٹنی پڑتی ہے جبکہ جس سے جرم سرزد ہوتا ہے ایسے بار سوخ افراد آسانی سے رہائی حاصل کر لیتے ہیں۔ بے گناہوں کے مقدموں کی پیروی کرنے اور ان کی مدد کیلئے نہ خود یہ لوگ جانتے ہیں اور نہ ہی ان کے رشتہ داروں کو معلومات رہتی ہیں۔ ہر محلہ میں اگر ایسے امدادی ادارے قائم ہوں تو بروقت بے گناہ افراد کو پولیس تھانوں سے ہی چھڑا لیا جاسکتا ہے۔ ملک میں حالانکہ لوک عدالتوں کا قیام کیا گیا ہے لیکن آج لوک عدالت کو بطور متبادل انتظام کے اختیار کرنے اور اسے انسان دوست بنانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اے پی سی آر بنگلورو یونٹ کے صدر اڈوکیٹ این کے عبدالسلام نے اس موقع پراے پی سی آر کی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں حالات کے پیش نظر قومی سطح پر اسوسی ایشن برائے تحفظ سول رائٹس نامی یہ ادارہ قائم ہوا اور گذشتہ 9برسوں سے اس ادارہ کے ذریعہ عوام کو قانونی معلومات ان کے حقوق سے آگاہ کرنے لٹریچر تیار کرکے تقسیم کیا جارہا ہے۔ قانونی مدد کی جارہی ہے۔ ضروری ریکارڈس رکھنے اور متاثرین کا سروے کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ عوام نمائندوں کو تربیت دینے اور ان میں بیداری لانے انفارمیشن سیل قائم کئے جارہے ہیں۔ عوام بیداری کیلئے کارکنوں کو منظم کرنے اور اس طرح کے معلوماتی پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔ ادارہ کی جانب سے ریاست کے مختلف علاقوں میں جاری مظالم اور نا انصافیوں سے واقفیت حاصل کرنے کیلئے سروے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا اگلا پروگرام جلد ہی بنگلورو ساؤتھ علاقے میں منعقد کیا جائے گا۔ پروگرام کی صدارت مسجد اعلیٰ آر ٹی نگر کے صدر اے این بشیر احمد ، وظیفہ یاب کے اے ایس افسر نے کی، محمد قاضی نے پروگرام کا احاطہ کیا۔ کورڈینیٹر محمد فضل نے شکریہ ادا کیا۔ بڑی تعداد میں آر ٹی نگر علاقہ کے اہم عمائدین و احباب نے اس بیداری پروگرام میں شرکت کی۔