ممبئی24نومبر ( ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) سرمائی اجلاس میں تین طلاق کے مسئلہ پر غور کرنے اور اس کی شرعی حیثیت ختم کرنے کے تعلق سے خبروں پر شیوسینا نے اپنے رنگ وآہنگ میں تبصرہ کیا ہے ۔جس سے حکومت کی اصل منشایعنی مسلمانو ں کودین سے دورکرنے کی کوشش کااشارہ ملتاہے۔ شیوسینا نے جمعہ کوکہاکہ اگر حکومت نے تین طلاق پر پابندی کے لئے قانون بنانے کا فیصلہ کیا تو یہ قدم مسلم خواتین کے لئے راحت کی بات ہوگی۔ واضح ہوکہ یہ مطالبہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکز ی سرکار سپریم کورٹ کی طرف سے روک لگائے جانے کے باوجودشرعی نقطہ نظر سے رائج تین طلاق کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ایک بل لانے پر غور کر ر ہی ہے ۔ شیو سینا نے اپنے ترجمان اخبار ’سامنا ‘ کے ایک ادار یہ میں کہا ہے کہ تین طلاق پر اگر مرکزی حکومت بل لاتی ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہو گا کیونکہ اس سے مسلم خواتین ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں گی۔ رواج پر مکمل طور روک لگنی چاہئے اور اس کے چلن کو جرم سمجھا جانا چاہئے۔ پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ اس سے پہلے شاہ بانو کی آواز دبا دی گئی لیکن، شا ہ بانو کے معاملے سے یہ مسلم خواتین کی آزادی کے آغاز ہو جائے گا، گویا اس سرکاری احکامات کی وجہ سے مسلم خواتین شرعی احکامات سے مبرا ہوں گی ؛ لیکن صورتحال تو یہ ہے کہ لاکھ سرکاری فرامین واقع ہوں ؛ لیکن شریعت میں سرمو ترمیم نہیں کی جاسکتی ہے۔اداریہ میں شیوسینا نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، یکساں سول کوڈ اور جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے اپنے حلیف کے زیر التواء دعوے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے دعوی کیا ہے،جس طرح مرکزی حکومت تین طلاق پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے، یکساں سول کوڈ کے ساتھ بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ یکساں سول کوڈ پر تین بار ہدایات دے چکا ہے لیکن حکومت نے اس کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔پارٹی نے کہاہے کہ آرٹیکل 370 کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے لیکن کشمیری لیڈروں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ رام مندرکے لیے بی جے پی کے پاس مرکز اور اترپردیش میں مناسب سیاسی طاقت ہے۔ اگرحکومت اسے سنجیدگی سے لے تو وہ لوگوں سے کئے اپنے وعدے پورے کر سکتی ہے ۔ اسی ضمن میں موہن بھاگوت نے بھی کرناٹک کے ادوپی میں وشوہندپریشد کے زیر اہتمام ’’ دھرم سنسد ‘‘ میں بھی ان باتوں کا اعادہ کیا ہے کہ رام مندر کی تعمیر و توسیع کیلئے یہ سازگار ماحول ہے ،لیکن کچھ صبرکی بھی ضرورت ہے، موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ رام مندر کی تعمیر ’’ آستھا ‘سے جڑا مسئلہ ہے ؛ لہٰذارام مندرکی تعمیروہیں ہوگی جہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی ۔