ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سماعت سے قبل بابری مسجدپرمتنازعہ بیانات ؛اُڈپی میں موہن بھاگوت کے اعلان پر اسدالدین اویسی برہم؛ پوچھا، کیا وہ چیف جسٹس ہیں ؟

سماعت سے قبل بابری مسجدپرمتنازعہ بیانات ؛اُڈپی میں موہن بھاگوت کے اعلان پر اسدالدین اویسی برہم؛ پوچھا، کیا وہ چیف جسٹس ہیں ؟

Fri, 24 Nov 2017 21:49:43    S.O. News Service

حیدرآباد،24؍نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)  حیدرآبادکے رکن پارلیمان   وصدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ 5دسمبر سے سپریم کورٹ میں بابری مسجدکے مقدمہ کے آغاز سے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں تناؤ کاماحول پیداکیاجائے۔ ملک بھر میں دوبارہ اسے ایک سیاسی مسئلہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی سیاسی روٹیاں سیک سکیں۔  موہن بھاگوت کے رام مندرکے لیے اس طرح کے بیانات ملک کے لیے اورسپریم کورٹ کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔بیرسٹراسدالدین اویسی نے اُڈپی میں وشواہندو پریشد کے ایک پروگرام میں رام مندر سے متعلق موہن بھاگوت کے دئے گئے بیانات اور اعلانات کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات بتائی۔

بیرسٹراسدالدین اویسی نے کہا کہ موہن بھاگوت کے بیانات سے یہ نظرآرہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن چکے ہیں۔ 5دسمبر سے سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز ہوگا۔ اس سے قبل وہ اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں کہ ہر حال میں رام مندر کے کام کا آغاز کیا جائے گا‘ اس طرح سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو جانتے ہیں۔صدر مجلس نے سوال کیا کہ کیا موہن بھاگوت اس طرح کے بیانات سپریم کورٹ پر دباوبنانے یا سپریم کورٹ پر اثرورسوخ ڈالنے کے لئے دے رہے ہیں ؟ کیا بھاگوت کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کے مقدمہ کا فیصلہ آستھا کی بنیاد پر ہوگا ؟دستور اور ثبوت کی بنیاد پر نہیں آئے گا؟ بھاگوت اس طرح کے بیانات جاری کرکے یہی پیام دے رہے ہیں۔

بیرسٹراسداویسی نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ ‘ مقدمہ کے آغاز سے قبل اس طرح کے بیانات کا نوٹ لے گا کہ کس طرح مرکزی حکومت ‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمہ کے آغازسے قبل ملک بھر میں تناؤ پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس طرح کا کھیل جو کھیلا جارہا ہے اس سے تو یہی پیام دیا جارہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل اپنا فیصلہ سنارہے ہیں۔بابری مسجد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرغور ہے اور سپریم کورٹ آستھا کی بنیاد پر تو فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ ثبوت کی بنیادپراپنا فیصلہ سنائے گا اور عدالت عظمی میں جو مقدمہ زیرغور ہے وہ ملکیت کا مقدمہ ہے۔اس ضمن میں آر ایس ایس کے سربراہ کاجو بیان سامنے آیا ہے اس سلسلہ میں وہ سپریم کورٹ سے امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹ لے گا۔


Share: