دمشق،30جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شام کے جنوب میں واقع القنیطرہ گورنری کے البعث شہرمیں گذشتہ دو روز سے جاری لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق البعث شہر میں اپوزیشن کیحملے میں کم سے کم 100 شامی فوجی ہلاک اوربیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر درعا گورنری میں شامی فوج نے بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے۔ جنوبی شام میں اسدی فوج کو کئی محاذوں پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور سرکاری فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ادھر وادی گولان میں کل جمعرات کو بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے شامی فوج کی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ جنوبی درعا میں داعش سے وابستہ انتہا پسند گروپوں کے خلاف جیش الحر کا آپریشن جاری ہے۔ اس علاقے میں لشکر خالد بن ولید گروپ سرگرم عمل ہے جس کے خلاف شامی اپوزیشن فورسز نے آپریشن شروع کر رکھا ہے۔اطلاعات کے مطابق جنوبی شام کی دو اہم گورنریوں القنیطرہ اور درعا میں اسدی فوج نے بھی اپنے طورپر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔ کئی اہم شہروں اور دیہاتوں پر اپوزیشن کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔ ان دونوں علاقوں کو جنگ بندی والے علاقوں میں شامل ہونے کے باوجود شامی فوج کی بمباری جاری ہے۔
اپوزیشن کی طرف سیجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ القنیطرہ میں پانچ اپوزیشن تنظیموں نے مشترکہ طور پر کارروائی میں کم سے کم 100شامی فوجی اور اس کے حامی غیرملکی جنگجوؤں کوہلاک جب کہ 250کو زخمی کردیا ہے۔ اپوزیشن نے حملوں میں شامی فوج کی تین بسوں، تین توپوں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ یا قبضے میں لے لیا ہے۔ شامی فوج نے درعا میں اپوزیشن کو شکست دینے کے لیے وسیع پیمانے پر زمینی اور فضائی حملے شروع کئے یہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں القنیطرہ کے نواحی علاقے الحمیدیہ اور نبع الصخر میں کئی عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔