برلن،30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمن پارلیمنٹ کے اکثریتی ممبران نے رائے شماری کے ذریعے ملک میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ اُن کی جماعت اس معاملے میں پارٹی لائن کے بجائے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرے۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے، جو رواں برس 24ستمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں، اس تاریخی فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود اُنہوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ شادی ایک مرد اور عورت کے درمیان ہی ہونی چاہیے جیسا کہ جرمن قانون میں واضح کیا گیا ہے۔
تاہم جرمن چانسلر نے یہ بھی کہا کہ اُن کا فیصلہ ذاتی نوعیت کا تھا اور یہ کہ وہ حالیہ سالوں میں اس بات کی قائل ہوئی ہیں کہ ہم جنس پرست جوڑوں کو بچے گود لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔میرکل نے مزید کہاکہ مجھے امید ہے کہ آج کا فیصلہ نہ صرف مختلف نظریات رکھنے والوں کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دے گا بلکہ زیادہ سماجی ہم آہنگی اور امن کا باعث بھی بنے گا۔
جرمن پارلیمان میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے حق میں 393جبکہ اس کی مخالفت میں 226ووٹ پڑے۔ کئی دیگر یورپی ممالک جن میں فرانس، برطانیہ اور اسپین شامل ہیں، پہلے ہی سے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
پیر کے روز میرکل کے اس اعلان نے کہ وہ پارلیمنٹ کے ارکان کو اُن کے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق ہم جنس پرستوں کی شادیوں پر ووٹنگ کی اجازت دیں گی، اُن کے روایتی کیتھولک بلاک کی جانب سے کسی حد تک ناپسندیدگی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ موضوع ستمبر میں انتخابات کی آمد تک ووٹرز کے ذہنوں سے محو ہو جائے گا۔آج جمعے کے روز ہونے والا یہ فیصلہ جرمن چانسلر کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی کے لیے تاریخی فتح کے مترادف ہے۔ ایس پی ڈی نے پیر کے روز میرکل کے بیان کے بعد کہا تھا کہ اُس کی کوشش ہو گی کہ پارلیمنٹ میں موسم گرما کی تعطیلات سے قبل ہی اس معاملے پر ووٹنگ کرا لی جائے۔ امکان ہے کہ اس فیصلے کو قانونی حییثیت دینے کے لیے سات جولائی تک جرمن صدر قانونی دستاویز پر دستخط کر دیں گے۔