کلبرگی، 30 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج اور ضلع انچارج وزیر پریانک کھرگے نے کلبرگی میں پولیس افسران کے ساتھ منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں "زیرو ٹالرنس" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے پولیس کمشنر ڈاکٹر شرنپا دھگے اور ضلع ایس پی سرینواسلو اڈور سمیت تمام افسران کو ہدایت دی کہ آن لائن سٹہ، مٹکا، منشیات، غیرقانونی شرطیں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔
اجلاس کے دوران وزیر نے مرکزی جیل میں جاری مشکوک سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور افسران کو جیل کا معائنہ کرنے کا حکم دیا۔ پریانک کھرگے نے پولیس کو عوام سے شائستگی کے ساتھ پیش آنے اور خاص طور پر دیہی علاقوں کے شہریوں کی شکایات پر ہمدردی سے غور کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے پوکسو اور دیگر حساس مقدمات میں سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی بھی سختی سے ہدایت دی۔
انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض ظاہر کیا کہ پولیس کئی سیول معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہی ہے، جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ وزیر نے پولیس اہلکاروں کو یاد دلایا کہ ان کا کردار صرف ثالثی کا نہیں بلکہ قانون کے محافظ کا ہونا چاہیے۔
پریانک کھرگے نے سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات اور سرکاری پالیسیوں سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی وکالت کی۔ انہوں نے حالیہ سونے کی دکان پر ڈکیتی اور غیرقانونی بھرتی جیسے کیسوں کو حل کرنے پر پولیس کی تعریف بھی کی۔
اس اجلاس میں موجود وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رات کے گشت میں اضافے اور خفیہ انٹیلیجنس کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سڑک کنارے موٹر سواروں سے غیرقانونی طور پر پیسے وصول کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی مائیکرو فائنانس کمپنیوں کی طرف سے کسانوں اور طلبہ کو دیے جانے والے قرضوں میں زیادتی کے معاملات پر بھی کارروائی کی بات کہی۔
سینئر رکن اسمبلی ایم وائی پاٹل نے گناگا پور دتاتریہ مندر کے قریب پارکنگ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ایم ایل اے اللم پربھو پاٹل نے شہر میں ایس بی کالج اور بس اسٹینڈ کے قریب ٹریفک جام سے نمٹنے کے اقدامات کی ہدایت دی۔
اجلاس میں ڈی آئی جی شنتنو سنہا، ڈپٹی کمشنر پولیس کنیگا سیکریوال، ایم ایل سی جگدیپ گتیدار، ایم ایل اے اویناش جادھو اور دیگر اعلیٰ افسران شریک تھے۔