بنگلورو، 7/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مالی سال 2026-27 کے لیے ریاستی بجٹ پیش کرتے ہوئے ترقی، عوامی بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سال ریاستی بجٹ کا مجموعی حجم 4,48,004 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ 4,09,549 کروڑ روپے کے مقابلے میں 38,455 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ اس طرح بجٹ میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے، جو مرکزی بجٹ کی شرحِ نمو سے زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق مرکزی حکومت کے بجٹ میں اس سال صرف 5.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ کرناٹک نے محدود وسائل اور مرکز کی مبینہ عدم تعاون کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بجٹ کے بعد اپنی سرکاری رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی وعدوں کے مطابق عوامی بہبود کی گارنٹی اسکیموں پر اب تک 1,21,598 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح کسانوں کے لیے زرعی پمپ سیٹوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی اسکیم کے تحت گزشتہ تین برسوں میں 36 لاکھ پمپ سیٹوں کو تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ بزرگوں، بیواؤں اور معذور افراد کی پنشن اسکیموں پر بھی 31 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے بھی امدادی رقم فراہم کی ہے، جس کے تحت سابق بقایا جات سمیت مجموعی طور پر 4,523 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ ان تمام فلاحی اسکیموں کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال جہاں 83,200 کروڑ روپے سرمایہ جاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے تھے، وہیں اس سال اسے بڑھا کر 84,567 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق 2023 سے اب تک 2,81,671 کروڑ روپے ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
دیہی علاقوں کی ترقی کو بجٹ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ دیہات میں پینے کے پانی، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ جل جیون مشن کے تحت منظور شدہ 69,888 کروڑ روپے کے منصوبوں میں مرکز کو 30,888 کروڑ روپے فراہم کرنے تھے، مگر اب تک صرف 11,786 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ریاست خود 27,098 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔
دیہی توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے لیے حکومت نے سولر مائیکرو گرڈ کے ذریعے 4000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے 7,110 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر اور کلیان کرناٹک کے علاقوں میں 1,125 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ریاستی حکومت نے مقامی اداروں کو دی جانے والی مالی امداد میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 48 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آبی وسائل کے شعبے میں المٹی ڈیم کی اونچائی بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس سے تقریباً 15 لاکھ ایکڑ اراضی کو مستقل آبپاشی کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ اس کے لیے زمین کے حصول کا عمل رضامندی کے ایوارڈ کے تحت شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح چامراج نگر ضلع میں پینے کے پانی اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے لفٹ اریگیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
شہری ترقی کے شعبے میں بنگلورو سمیت دیگر شہروں میں سیوریج نظام، پارکوں کی ترقی، پینے کے پانی کی فراہمی اور ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبے میں حکومت نے 187 نئے پوسٹ میٹرک طلبہ ہاسٹل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ 46 نئے رہائشی ہاسٹل اور 14 ورکنگ ویمن ہاسٹل بھی قائم کیے جائیں گے۔ مزدوروں کے بچوں کے لیے 104 رہائشی اسکول بھی شروع کیے جائیں گے۔
صنعتی ترقی کے لیے بھی بجٹ میں اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ بیلگاوی میں صنعتی پارک، دھارواڑ میں صنعتی نوڈ، میسور کو ریاست کا دوسرا آئی ٹی شہر بنانے اور منگلورو میں آئی ٹی پارک اور عالمی صلاحیتی مراکز قائم کرنے کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں۔
ریاستی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی 6,596 نئی بسیں شامل کی ہیں اور آئندہ مرحلے میں 1,000 نئی ڈیزل بسیں اور 4,000 برقی بسیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین کی تنخواہوں میں نظرثانی اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 1,271 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے نوجوانوں اور معاشرے کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے امکان پر بھی غور کیا ہے۔
قبائلی برادریوں کی فلاح کے لیے ایک علیحدہ ترقیاتی کارپوریشن قائم کرنے اور درج فہرست قبائل کے مسائل کے لیے ایک نیا کمیشن تشکیل دینے کا اعلان بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
مالی نظم و ضبط کے حوالے سے حکومت نے کہا ہے کہ ریاست کا مالیاتی خسارہ 2.95 فیصد تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ ریاستی مجموعی پیداوار (جی ایس ڈی پی) کا اندازہ 33,05,500 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ریاست کی مجموعی ذمہ داریاں جی ایس ڈی پی کے 24.94 فیصد کے اندر رہیں گی، جو مالیاتی ذمہ داری کے قانون کے مطابق ہے۔
حکومت نے اس بجٹ کو عوامی مرکزیت، سماجی انصاف اور معاشی ترقی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کسانوں، مزدوروں، طلبہ، درج فہرست ذات و قبائل، شہری غریبوں اور متوسط طبقے سمیت ریاست کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاست کی معاشی مضبوطی، علاقائی توازن اور مستقبل کی ترقی کا روڈ میپ ہے۔