بھٹکل 4/ مارچ (ایس او نیوز) اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران پر جاری فضائی حملوں کے بیچ مشرق وسطیٰ میں موجود بھٹکل کے دس ہزار سمیت 90 لاکھ ہندوستانی باشندوں کی سلامتی کے تعلق سے ان کے اہل خانہ فکر و تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔
نئی دہلی سے ملی ایجنسی کی اطلاع کے مطابق ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے تیز ہونے کے بعد تقریباً 11 ممالک نے اپنی فضا کو طیاروں کی پرواز کے لئے بند کر دیا ہے اور 350 بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
معاملے کو لے کر وزیر اعظم نریندرا مودی کی صدارت میں کابینہ کی سلامتی سے متعلقہ کمیٹی کی ایمرجنسی میٹنگ منعقد کی گئی اور درپیش صورتحال کے پس منظر میں تمام متعلقہ اہم محکمہ جات کو ضروری ہدایات جاری کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے تل ابیب، تہران ابوظہبی اور دبئی کے لئے 24x7 ہیلپ لائن متحرک کر دی گئی ہے۔
ہوائی سفر کی سہولت بند ہوجانے کی وجہ سے کرناٹکا سمیت ملک کی مختلف ریاستوں کے مسافر مشرق وسطیٰ اور خاص کرکے دبئی میں پھنس گئے ہیں ۔ کرناٹکا میں وزیر اعلیٰ سدا رامیا اور وزیر مالگزاری کی ہدایت پر ریاست اور تمام اضلاع کے لئے 24x7 ایمرجنسی ہیلپ لائن سینٹر کو متحرک رکھا گیا ہے۔ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے مسافروں کے تعلق سے ضروری اقدامات کے لئے ایک نوڈل آفیسر متعین کیا گیا ہے جو نئی دہلی میں واقع کرناٹکا بھون میں موجود کمشنر آفس اور وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو ضروری مدد اور تعاون فراہم کیا جا سکے۔ اسی کے ساتھ بیرونی ممالک میں موجود ہندوستانی سفارت خانوں سے بھی رابطہ جاری ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے وزیر اعظم نریندرا مودی کو تفصیلات روانہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں درپیش موجودہ جنگی صورتحال میں پھنسے کرناٹکا کے باشندوں کو بحفاظت واپس لانے کی درخواست کی ہے۔
اس دوران اتر کنڑا ضلع کے انچارج وزیر منکال وئیدیا نے بتایا کہ ایران اسرائیل جنگ سے متاثرہ مشرق وسطیٰ میں ضلع سے تعلق سے رکھنے والے باشندوں میں سے کسی نے کوئی مدد طلب کرتے ہوئے ان سے رابطہ قائم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتر کنڑا کے باشندے ایران اور اسرائیل سمیت ہر جگہ موجود ہیں۔ بھٹکل سے تعلق رکھنے والے دس ہزار افراد مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں ۔ مگر ان میں سے کسی نے اب تک مدد کے لئے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ اگر کوئی مدد اور تعاون طلب کرتا ہے تو اسے ہر ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔