بھٹکل 11/ڈسمبر (ایس او نیوز) بھٹکل سمیت ریاست کرناٹک اور ملک کے دیگر حصوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے، ایسے میں اکثر گھروں میں گیزر اور بعض گھروں میں ہیٹر کا استعمال بڑھ جاتا ہے، ایسے میں ماہرین کے مطابق اگر حفاظتی اصولوں پر توجہ نہ دی جائے تو گیزر یا ہیٹر پھٹنے، شارٹ سرکٹ ہونے اور بجلی لگنے جیسے خطرناک حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کے استعمال سے پہلے چند ضروری احتیاطی تدابیر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گیزر اور ہیٹر دونوں میں بجلی کی وائرنگ اور ارتھنگ سب سے اہم ہے۔ ڈھیلی وائرنگ، خراب ارتھنگ یا کٹی ہوئی تاریں شارٹ سرکٹ یا بجلی لگنے کا خطرہ بڑھاتی ہیں، اس لیے کسی بھی برقی مسئلے کو فوری درست کروانا لازمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گیزر/ہیٹر دو سال سے زیادہ پرانا ہو تو اسے چیک کرائے بغیر آن کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیٹنگ ایلیمنٹ پر میل جم جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ آلات زیادہ گرم ہونے یا پھٹنے کا باعث بنتی ہے۔ سردی شروع ہوتے ہی قابل اعتماد ٹیکنیشن سے مکمل معائنہ کرانا ضروری ہے۔
گیزر کے معاملے میں جیسے ہیٹنگ ایلیمنٹ پر میل جمنا، پانی کا رساؤ یا تھرموسٹیٹ کی خرابی حادثات کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح ہیٹر کے استعمال میں بھی اوور ہیٹنگ، ٹِپنگ یا ڈھلکی ہوئی سطح پر رکھنا خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیٹر کو ہمیشہ ہموار، مضبوط اور غیر جلی سطح پر رکھنا چاہیے اور استعمال کے دوران اس کے قریب کوئی پلاسٹک یا کپڑا نہ رکھا جائے تاکہ آگ لگنے کا خطرہ نہ رہے۔
سرویس اور معائنہ دونوں کے لیے ماہر ٹیکنیشن کی خدمات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر گیزر یا ہیٹر سے غیر معمولی آواز، بو یا دھواں نکلے تو فوراً بجلی بند کر کے سروس کروائیں۔ معمولی خرابی کو نظرانداز کرنا بعد میں بڑے حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ استعمال کے دوران ہمیشہ وقتاً فوقتاً پانی یا ہیٹر کے درجہ حرارت کی نگرانی ضروری ہے۔ گیزر کے لیے مقررہ درجہ حرارت سے زیادہ پانی یا ہیٹر کے لیے زیادہ گرمی نہایت خطرناک ہو سکتی ہے، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کے لیے۔
آخر میں، یہ بات یقینی بنائیں کہ سیفٹی والو، تھرموسٹیٹ، اور ہیٹر کے اوور ہیٹ پروٹیکشن فیچرز صحیح کام کر رہے ہوں، کیونکہ یہ نظام حادثات کو روکنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔