ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / چکمگلورو : ہاتھیوں کا حملہ - ایک ہفتے کے اندر دو افراد کی موت - عوام کا احتجاج - پولیس کا لاٹھی چارج

چکمگلورو : ہاتھیوں کا حملہ - ایک ہفتے کے اندر دو افراد کی موت - عوام کا احتجاج - پولیس کا لاٹھی چارج

Mon, 23 Feb 2026 22:00:37    S O News
چکمگلورو : ہاتھیوں کا حملہ - ایک ہفتے کے اندر دو افراد کی موت - عوام کا احتجاج - پولیس کا لاٹھی چارج

چکمگلورو، 23 / فروری (ایس او نیوز) تعلقہ کے ہوناسے ہلّی گاوں میں ہاتھیوں کے حملے کی وجہ سے ایک ہفتے اندر دو افراد کی موت واقع ہونے پر مقامی لوگوں نے لاش کو سڑک پر رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ 
    
موصولہ رپورٹ کے مطابق ہاتھی کے حملے کی تازہ شکار  گدلگٹے کی رہنے والی بورمّا (45 سال) نامی ایک زرعی مزدور بورمّا (45 سال) نامی خاتون ہے جو اپنے شوہر ناگراج کے ساتھ ناگیش گوڑا نامی شخص کے کافی کے باغ میں کام کر رہی تھی ۔ 
    
اس سے پہلے جمعہ کے دن  اسی علاقے میں ہاتھی کے حملے کی وجہ سے ہانگل کے رہنے والے یلپّا نامی ایک اور زرعی مزدور کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ اس کی موت کے بعد بڑی تعداد میں مقامی لوگ بولے ہونّور میں جمع ہوگئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا تھا ۔
    
اس کے بعد محکمہ جنگلات کے افسران نے اس مزدور کی موت کا ممکنہ سبب بننے والے ہاتھی کو پکڑنے کے اقدامات شروع کیے تھے اور چند ہی منٹوں کے اندر وہ اس ہاتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ 
    
جیسے ہی پھر ایک بار ہاتھی کے حملے میں بورمّا کی موت کا خبر عام ہوئی سیکڑوں لوگ چکمگلورو کو سرینگیری سے جوڑنے والے اسٹیٹ ہائی وے 27 پر جمع ہوگئے اور بیچ سڑک پر لاش کو رکھ کر ٹریفک کو روکتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ۔ اس کی وجہ سے پورا دن کے ایس آر ٹی سی بسوں سمیت سیکڑوں گاڑیوں کا جام لگ گیا ۔ 
    
اسی دوران سابق وزیر ڈی این جیوراج، جنتا دل ایس لیڈر سدھاکر شیٹی اور کئی کسان لیڈر مظاہرین کا ساتھ دینے کے لئے موقع پر پہنچ گئے ۔ مظاہرین نے ریاستی حکومت ، محکمہ جنگلات اور ضلع انتظامیہ کے افسران کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا وزیر برائے جنگلات ایشور کھنڈرے کو موقع پر پہنچ کر علاقے میں ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان بنے ہوئے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کا تیقن دینا چاہیے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی مانگ رکھی گئی کہ فوت شدہ افراد کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ  رپوں کا معاوضہ دینے کے علاوہ سرکاری نوکری دینی چاہیے ۔ انہوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے تک لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے متعلقہ افسران کے حوالے کرنے سے انکار کیا ۔
    
جب تک ڈپٹی کمشنر این ایم ناگراج اور ضلع ایس پی جتیندرا کمار دیاما احتجاج کے مقام تک پہنچتے شام کے پانچ بج چکے تھے ۔ جیسے ہی لاش حاصل کرنے کے لئے پولیس نے مداخلت کی، مظاہرین غضب ناک ہوگئے اور مقابلے پر اتر آئے جس کے بعد احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران تین مظاہرین زخمی ہوئے ہیں ۔ 


Share: