ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’ٹیکس دہندگان کے پیسے کا استعمال آر ایس ایس نظریات کے لیے کیوں؟‘ ڈی ایم کے کا سنسکرت پر اعتراض

’ٹیکس دہندگان کے پیسے کا استعمال آر ایس ایس نظریات کے لیے کیوں؟‘ ڈی ایم کے کا سنسکرت پر اعتراض

Wed, 12 Feb 2025 10:44:24    S O News

نئی دہلی ، 12/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)آج لوک سبھا میں ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ دیاندھی مارن نے ایوان کی کارروائی کے سنسکرت ترجمے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے آر ایس ایس نظریات کو مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کو مخصوص نظریات کے فروغ کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ تاہم، لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا نے ان کے تبصرے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انھیں تنبیہ کی۔

دراصل لوک سبھا کارروائی کا ترجمہ ہندی اور انگریزی سمیت 10 علاقائی زبانوں میں کیا جاتا ہے۔ اب اس میں مزید 6 زبانیں جوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جب لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا نے اس تعلق سے اعلان کیا تو ڈی ایم کے اراکین نے نعرہ بازی شروع کر دی۔ اس ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے دیاندھی مارن سے سوال کیا کہ آخر ان کا مسئلہ کیا ہے؟ اس پر دیاندھی مارن نے کہا کہ وہ سرکاری ریاستی زبانوں کے ایک ساتھ ترجمہ کا استقبال کرتے ہیں، لیکن انھیں سنسکرت زبان کے ترجمہ پر اعتراض ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ یہ بات چیت والی زبان نہیں ہے۔ انھوں نے 2011 کی مردم شماری سروے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صرف 73 ہزار افراد ہی سنسکرت بولتے ہیں۔ یہ تفصیل پیش کرنے کے بعد انھوں نے یہ سوال بھی داغ دیا کہ ’’آر ایس ایس کے نظریات کے سبب ٹیکس دہندگان کا پیسہ کیوں برباد کیا جانا چاہیے!‘‘

ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ دیاندھی مارن کے ذریعہ لوک سبھا کارروائی کا ترجمہ سنسکرت زبان میں کیے جانے پر اعتراض سے اسپیکر اوم برلا ناراض ہو گئے۔ انھوں نے دیاندھی مارن کو پھٹکار لگائی اور اعتراض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کس ملک میں رہ رہے ہیں؟ یہ ہندوستان ہے اور اس کی پرائمری زبان سنسکرت رہی ہے۔ میں نے 22 زبانوں کی بات کی، تنہا سنسکرت کی نہیں۔ آپ کو سنسکرت پر اعتراض کیوں ہے؟ پارلیمنٹ میں 22 منظور شدہ زبانیں ہیں۔ ہندی کے ساتھ ساتھ سنسکرت زبان میں بھی ایک ساتھ ترجمہ ہوگا۔‘‘

وقفہ سوالات ختم ہونے کے فوراً بعد لوک سبھا اوم برلا نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اب بوڈو، ڈوگری، میتھلی، منی پوری، سنسکرت اور اردو زبان میں ایوان کی کارروائی کا ترجمہ ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں ہندوستان کی پارلیمنٹ ہی واحد آئینی ادارہ ہے جہاں ایک ساتھ اتنی زبانوں میں کارروائی کا ترجمہ ہو رہا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انگریزی اور ہندی کے علاوہ آسامیا، بانگلہ، گجراتی، کنڑ، ملیالی، مراٹھی، اڑیہ، پنجابی، تمل اور تیلگو میں بھی ایک ساتھ لوک سبھا کارروائی کی تشریح دستیاب ہے۔


Share: