بھٹکل، 12 مارچ (ایس او نیوز): بھٹکل بلاک کانگریس کمیٹی نے جمعرات کو “سیو شراوتی” تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے شراوتی ندی پر مجوزہ شراوتی پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹ کی مخالفت کو دہرایا اور اس معاملے میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے مبینہ گمراہ کن دعوؤں کی مذمت کرتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
بھٹکل میں واقع کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوناور بلاک کانگریس صدر گوندا نائک نے کہا کہ شراوتی ندی اس خطے کے عوام کے لیے زندگی کی علامت ہے، جو طویل سفر طے کرتے ہوئے بالآخر بحیرۂ عرب میں جا ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ندی پر پہلے ہی بجلی پیدا کرنے کے لیے کئی ڈیم تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ شراوتی پمپڈ اسٹوریج منصوبہ بھی اسی ندی پر مجوزہ منصوبوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی شروعات 2006 میں ہوئی تھی اور اس کے بعد مختلف حکومتوں کے ادوار میں یہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب عملی نفاذ کے قریب پہنچ چکا ہے۔
گوندا نائک نے بتایا کہ ہوناور میں “شراوتی اُلِسی ہوراٹا سمیتی” (سیو شراوتی جدوجہد کمیٹی) کے نام سے ایک عوامی پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے، جس میں مختلف طبقات اور سیاسی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد غیر جماعتی بنیاد پر شامل ہو کر اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے تحت متعدد اجلاس اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں جن میں کانگریس کے کارکنان نے بھی حصہ لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 10 مارچ 2026 کو اس کمیٹی کی جانب سے ایک بڑا احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ کے کانگریس لیڈران شریک ہوئے تھے۔ اس احتجاج کی قیادت بھارتی راگویشور تیرتھ سوامی جی، ماروتی گروجی اور پرنوانند سوامی نے کی تھی، جبکہ ضلع کے انچارج وزیر اور بھٹکل۔ہوناور حلقہ کے رکن اسمبلی منکال ویدیا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی اجلاس غیر جماعتی پلیٹ فارم کے طور پر منعقد کیا گیا تھا اور اس میں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ اس مسئلے پر مشترکہ طور پر آواز بلند کی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے گوندا نائک نے کہا کہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کاروار میں منعقدہ کراولی اتسو کے موقع پر شراوتی پمپڈ اسٹوریج منصوبے کے نفاذ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تقریب میں موجود وزیر منکال ویدیا نے بھی اسی اسٹیج سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نائب وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ اس کے باوجود بعض افراد سوشل میڈیا پر منتخب ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گوندا نائک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض افراد کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف علیحدہ طور پر کیے گئے احتجاجی پروگراموں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہوناور میں نکالی گئی ایک پدیاترا میں محض 25 سے 30 افراد ہی شریک ہوئے تھے۔
انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں خبریں شائع کرتے وقت حقائق کی تصدیق کریں اور غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں۔
پریس کانفرنس کی صدارت بھٹکل بلاک کانگریس کمیٹی کے صدر وینکٹیش نائک نے کی۔ اس موقع پر بھٹکل بلاک کانگریس کے جنرل سکریٹری سریش نائک کے علاوہ ہوناور اور منکی کے کانگریس لیڈران اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔