ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایل پی جی قلت اور پولیس کارروائی پر مہیلا کانگریس برہم، الکا لامبا کا مودی حکومت پر سخت حملہ

ایل پی جی قلت اور پولیس کارروائی پر مہیلا کانگریس برہم، الکا لامبا کا مودی حکومت پر سخت حملہ

Thu, 12 Mar 2026 12:24:32    S O News
ایل پی جی قلت اور پولیس کارروائی پر مہیلا کانگریس برہم، الکا لامبا کا مودی حکومت پر سخت حملہ

نئی دہلی ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)’’9 فروری کو مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے اور گودام مکمل طور پر بھرے ہوئے ہیں، لیکن  ملک کے مختلف حصوں سے گیس سلنڈروں کی کمی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تقریباً پورا ملک اس بحران سے متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ جب ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تو ہم نے ہردیپ پوری سے ملاقات کی کوشش کی، مگر انہوں نے ہمیں وقت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود ہم خاموش نہیں بیٹھے اور عوام کے مسائل کو اٹھاتے رہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری آواز دبانے کے لیے ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔‘‘ یہ بات مہیلا  کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’کمپرومائزڈ‘ قرار دیا اور کہا کہ اسی وجہ سے ملک کو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے جو ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی، اس پر ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ لکھا ہوا تھا۔ ساتھ ہی وہ اس کے لیے دلیلیں بھی پیش کر رہی تھیں کہ امریکہ اور ٹرمپ کے سامنے پی ایم مودی کے ’سمجھوتہ‘ کرنے کا انکشاف کس طرح ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کا بیان وائرل ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا– ہم نے ہندوستان کو روس سے تیل لینے کے لیے منع کیا اور ہندوستان نے ویسا ہی کیا۔ اب ہم نے انھیں ایک ماہ روس سے تیل لینے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ الکا کہتی ہیں کہ ’’اس بیان سے صاف جھلکتا ہے کہ کمپرومائزڈ نریندر مودی نے ٹرمپ کے آگے ’سرینڈر‘ کر دیا ہے اور ملک کے وقار کو تار تار کر دیا ہے۔‘‘ وہ عزم ظاہر کرتی ہیں کہ ’’ہم یہ برداشت نہیں کریں گے، اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور تحریک چلائیں گے۔‘‘

خاتون کانگریس کارکنان کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’کل ہماری مہیلا کانگریس کی عہدیداروں کو شام 8-6 بجے تک تھانہ لے جا کر بٹھایا گیا۔ جب میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو ہم سے کہا گیا کہ ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ کی مہم بند کر دیجیے اور ہردیپ پوری کے گھر کے آگے احتجاج مت کیجیے۔ ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک میں کچھ بھی غلط ہوگا تو ہم جمہوری حق کے تحت تحریک چلائیں گے۔ آپ کو جتنا پریشان کرنا ہے کر لو، لیکن ہم نہیں رکیں گے۔‘‘

congres mahila protest
وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے امریکہ اور ٹرمپ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی پوری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا اثر ملک میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا، اسرائیل کو ’فادر‘ بتا دیا اور ان کے ہندوستان لوٹتے ہی اسرائیل نے جنگ شروع کر دی۔ آج ہندوستان بھی امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ میں جھلس رہا ہے۔‘‘

ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت 60 روپے اور کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 115 روپے بڑھا دی۔ ملک کے پٹرولیم وزیر ہردیپ پوری جوابدہی سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پارلیمنٹ اجلاس چل رہا ہے اور مودی جی تمل ناڈو میں انتخابی تشہیر کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے کہا کہ ’’ہم نریندر مودی سے کہنا چاہتے ہیں، مودی جی! دہلی واپس آئیے اور جو آپ نے گٹر سے گیس بنانے کی ٹیکنالوجی بتائی تھی، اس کا فائدہ ملک کے لوگوں کو دیجیے۔ لوگوں کی مشکل کو ختم کیجیے۔‘‘

الکا لامبا نے وزیر اعظم مودی کے تئیں اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ وہ عوام کو اکثر مشکل میں ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں قطار میں لگنا پڑ جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کی حکومت میں پہلے نوٹ بندی سے پورے ملک کو قطار میں کھڑا کر دیا گیا، پھر کورونا میں لگوں کو آکسیجن کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا حتیٰ کہ شمشان گھاٹ میں بھی قطار دیکھی گئی، اور اب ملک میں ایل پی جی کی قلت ہے اور لوگ قطار لگا کر کھڑے ہیں۔‘‘ انھوں نے اس بات پر شدید فکر ظاہر کی کہ اس مشکل دور میں ہندوستان تیل کس ملک سے خریدے گا، اس کا فیصلہ بھی امریکہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ہمارے ملک میں تیل کب اور کہاں سے لیا جائے گا، اس کا فیصلہ امریکہ کر رہا ہے۔ نریندر مودی نے خود کو بچانے کے لیے پوری طرح سرینڈر کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ ایپسٹین فائل دکھا کر نریندر مودی کو ڈرا رہا ہے اور بلیک میل کر رہا ہے۔‘‘


Share: